بچپن میں اکثریہ خیال آتا تھاکہ کاش میں اکلوتی ہوتی تو ماں ،بابا کا
سارا پیار صرف مجھے ملتا۔ لیکن بچپن کے دورکی خواہشیں بھی بڑی نادان ہوتی ہیں ۔ ہم
کیا چاہتے ہیں تھوڑی دیر بعد ہمیں وہ ی چیز نہیں چاہئیے ہوتی ۔۔
بچپن اور بہنوں کا رشتہ بڑا دلچسپ تعلق ہے سارا بچپن لڑتے ہیں ، ہر چھوٹی بات پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی نہیں مانو دو ریسلر ایک دوسرے کے مدِ مقابل آگئے ہوں ۔ وقت گزرتا ہے آہستہ آہستہ سمجھ بوجھ بھی ساتھ آتی جاتی ہے ۔ ایک دوسرے کی اہمیت سمجھنا شروع کرتے ہیں ۔ گھر میں لڑائی ہو تو اوپر والا ہی بچائے لیکن اگر اسی بہن کو کوئی باہر والا کچھ کہہ دے تو اس کی خیر نہیں ۔ مجھے یاد نہیں لیکن بڑے بتاتے ہیں میں نے اپنی بہن کی پیدائش پر اس کو کسی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا تھا کیونکہ میری بہن جو تھی۔مگر جب ایک ہفتے بعد وہ نانی کے گھر سے ہمارے گھر آئی تو میں نے ہی اسے اُٹھا کر کمرے کے ڈسٹ بن میں ڈال دیا تھا ۔ ایسی ناجانے کتنی یادیں میری اور اس کی ہیں۔�آپ کی بھی ہوں گی اس رشتے کی خاصیت ہی یہ ہے جہاں ایک طرف ہم اس سے چڑتے ہیں وہیں سب سے زیادہ پیار بھی کرتے ہیں ۔ دو بہنیں دنیا کی سب سے اچھی دوست بن سکتی ہیں ۔ساتھ رہنا، ساتھ کھانا ، ساتھ کھیلنا ، پڑھنا اور روزمرہ کے کام ساتھ کرنا ،ہمیں خیال ہی نہیں رہتا کہ کبھی الگ بھی ہوسکتے ہیں ۔ایسے میں سماج کے بنائے قانون جو دنیا میں رہنے کے لئے بنائے جاتے ہیں دل مانے نا مانے ماننے پڑتے ہیں۔ جی بلکل شادی کی بات کر رہی ہوں ۔ نرالا اصول نہیں ہے۔۔۔ ساری زندگی جس گھر میں گزاری وہ گھر وہ لوگ جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری چند لمحوں میں پرائے ہوگئے ۔ وہ بہن جس کے ساتھ زندگی شئیر کی تھی وہ چند لمحوں میں کسی اور کی ہوگئی اب وہ ملے گی تو لیکن ان مہمانوں کی طرح جو آتے ہیں ملتے ہیں پیار جتاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ یہ حق اس کو دیا بھی جائے کہ یہ اب بھی تمھارا گھر ہے تب بھی وہ بات نہیں رہتی نہ وہ پہلے جیسے حالات ہوتے ہیں ۔ اس کے جانے کا افسوس ہوتا ہے لیکن ساتھ دل کو یہ طمانیت ہوتی ہے کہ میری سہیلی جس کے ساتھ مل کر میں شرارتیں کرتی تھی ، میری سکھی ۔۔ جس کے ساتھ میں شرارتیں کرتی تھی ۔ میری ہم جولی جو میری نگاہوں میں چھپے درد کو بناء کہے سمجھ لیتی تھی میرے ساتھ نہ سہی کوئی بات نہیں لیکن جہاں ہے خوش ہے کوئی ہے اس کے ساتھ جو اس کا خیال رکھتا ہے ۔ اب وہ کسی اور کی آنکھوں میں چھپے درد کو دور کرنے کی سعی کرتی ہوگی ۔اب وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہے جو اس کا اس نئے سفر میں ہم سفر ہے ۔ ا س کے ساتھ جو نئے رشتے جڑے ہیں وہ ان کا خیال بھی رکھتی ہوگی اور وہ اس کا۔۔
اکثر سوچتی ہوں کاش میں بھی کبھی کچھ ایسا تحریر کرتی جہاں دو آنسو بہا کر مسکراتی اور خود سے کہتی کہ وہ خوش ہے نا تو تم بھی خوش ہوجاؤ ۔ مگر جب حالات ایسے نہ ہوں تو،بات اس کے برعکس ہوجائے تو ۔۔ ہاں مان لیجئے نوجوانی کی دہلیز اس کی زندگی کی آخری منزل ثابت ہوجائے
بچپن اور بہنوں کا رشتہ بڑا دلچسپ تعلق ہے سارا بچپن لڑتے ہیں ، ہر چھوٹی بات پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی نہیں مانو دو ریسلر ایک دوسرے کے مدِ مقابل آگئے ہوں ۔ وقت گزرتا ہے آہستہ آہستہ سمجھ بوجھ بھی ساتھ آتی جاتی ہے ۔ ایک دوسرے کی اہمیت سمجھنا شروع کرتے ہیں ۔ گھر میں لڑائی ہو تو اوپر والا ہی بچائے لیکن اگر اسی بہن کو کوئی باہر والا کچھ کہہ دے تو اس کی خیر نہیں ۔ مجھے یاد نہیں لیکن بڑے بتاتے ہیں میں نے اپنی بہن کی پیدائش پر اس کو کسی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا تھا کیونکہ میری بہن جو تھی۔مگر جب ایک ہفتے بعد وہ نانی کے گھر سے ہمارے گھر آئی تو میں نے ہی اسے اُٹھا کر کمرے کے ڈسٹ بن میں ڈال دیا تھا ۔ ایسی ناجانے کتنی یادیں میری اور اس کی ہیں۔�آپ کی بھی ہوں گی اس رشتے کی خاصیت ہی یہ ہے جہاں ایک طرف ہم اس سے چڑتے ہیں وہیں سب سے زیادہ پیار بھی کرتے ہیں ۔ دو بہنیں دنیا کی سب سے اچھی دوست بن سکتی ہیں ۔ساتھ رہنا، ساتھ کھانا ، ساتھ کھیلنا ، پڑھنا اور روزمرہ کے کام ساتھ کرنا ،ہمیں خیال ہی نہیں رہتا کہ کبھی الگ بھی ہوسکتے ہیں ۔ایسے میں سماج کے بنائے قانون جو دنیا میں رہنے کے لئے بنائے جاتے ہیں دل مانے نا مانے ماننے پڑتے ہیں۔ جی بلکل شادی کی بات کر رہی ہوں ۔ نرالا اصول نہیں ہے۔۔۔ ساری زندگی جس گھر میں گزاری وہ گھر وہ لوگ جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری چند لمحوں میں پرائے ہوگئے ۔ وہ بہن جس کے ساتھ زندگی شئیر کی تھی وہ چند لمحوں میں کسی اور کی ہوگئی اب وہ ملے گی تو لیکن ان مہمانوں کی طرح جو آتے ہیں ملتے ہیں پیار جتاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ یہ حق اس کو دیا بھی جائے کہ یہ اب بھی تمھارا گھر ہے تب بھی وہ بات نہیں رہتی نہ وہ پہلے جیسے حالات ہوتے ہیں ۔ اس کے جانے کا افسوس ہوتا ہے لیکن ساتھ دل کو یہ طمانیت ہوتی ہے کہ میری سہیلی جس کے ساتھ مل کر میں شرارتیں کرتی تھی ، میری سکھی ۔۔ جس کے ساتھ میں شرارتیں کرتی تھی ۔ میری ہم جولی جو میری نگاہوں میں چھپے درد کو بناء کہے سمجھ لیتی تھی میرے ساتھ نہ سہی کوئی بات نہیں لیکن جہاں ہے خوش ہے کوئی ہے اس کے ساتھ جو اس کا خیال رکھتا ہے ۔ اب وہ کسی اور کی آنکھوں میں چھپے درد کو دور کرنے کی سعی کرتی ہوگی ۔اب وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہے جو اس کا اس نئے سفر میں ہم سفر ہے ۔ ا س کے ساتھ جو نئے رشتے جڑے ہیں وہ ان کا خیال بھی رکھتی ہوگی اور وہ اس کا۔۔
اکثر سوچتی ہوں کاش میں بھی کبھی کچھ ایسا تحریر کرتی جہاں دو آنسو بہا کر مسکراتی اور خود سے کہتی کہ وہ خوش ہے نا تو تم بھی خوش ہوجاؤ ۔ مگر جب حالات ایسے نہ ہوں تو،بات اس کے برعکس ہوجائے تو ۔۔ ہاں مان لیجئے نوجوانی کی دہلیز اس کی زندگی کی آخری منزل ثابت ہوجائے
موت کا بے رحم فرشتہ اسے ہر خوشی ، ہر اپنے سے دور بہت دور لے جائے
تو۔۔ خیر موت پر بھی کب کسی کا اختیار رہا ہے ۔لیکن تب تکلیف زیادہ ہوتی ہے جب جب
کسی کی لاپرواہی آپ سے آپ کی قیمتی چیز چھین لے اور آپ بے بسی کی مورت بنے سب ہوتے
دیکھتے رہیں۔ ۔
کیونکہ نا آپ اتنے بڑے ہیں کہ حالات کو سمجھ سکیں نا ہی کوئی فیصلہ لینے لائق ۔۔ تب بے بسی پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے جو تاعمر صرف زخم دیتی ہے ، ایسے زخم جن پر شاید کوئی مرہم اثر نہ کرسکے ۔ بس ایک کاش ہی رہ جاتا ہے ۔۔
آج بھی اس کی چھوئی ہوئی ہر چیز میں اس کا لمس موجود ہے ۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود ایک احساس ہے ایک قربت کا رشتہ ہے جو بظاہر نظر نہ آنے کے باوجود بھی جوڑے رکھے ہے ۔ بہنوں کا تعلق شاید ایسا ہی ہوتا ہے ۔مر کر بھی احساس جوڑے رکھتا ہے ۔آج سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ادھورا لگتا ہے جب اپنی الماری کھولتی ہوں جس کی ایک سائڈ تمھاری تھی آج وہ پوری میری ہے ، پہلے اپنی چیزیں دینا اچھا نہیں لگتا تھا آج کوئی کہنے والا ہی نہیں ہے میری شرٹ نہیں پہننا ،کوئی کہنے والا ہی نہیں کہ تم نے میری چاکلیٹ بھی کھا لی ۔۔۔
اب جب کچھ کہیں رکھتی ہوں وہیں سے مل جاتا ہے کوئی ہٹانے والا ہی نہیں ہے ۔۔ اب کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کی آرزوبھی نہیں ، کیونکہ کوئی نہیں کہتا مجھے بیٹھنا ہے تم ہٹو ۔۔ اب کوئی میرے لئے لڑنے والا نہیں کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو کچھ کہنے کی ۔۔
اب میرے پاس سب کچھ ہے لیکن شئیر کرنے کیلئے کوئی نہیں ۔۔۔
آج بھی ہمارے ٹینس کے ریکٹ ، ویڈیو گیم کے جوائے اِسٹک اور ناجانے کیا کیا سب ویسا ہی رکھا ہے ۔جیسے یہ سب بھی کہیں نہ کہیں منتظر ہیں اس بات کے تم آؤ گی ہم ساتھ میں کھیلیں گے ۔۔۔
اب مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا یہ کہنا کہ میں اکلوتی ہوں ۔۔ نہیں نہیں تم ہو نا میرے آس پاس کہیں ۔۔
کیونکہ نا آپ اتنے بڑے ہیں کہ حالات کو سمجھ سکیں نا ہی کوئی فیصلہ لینے لائق ۔۔ تب بے بسی پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے جو تاعمر صرف زخم دیتی ہے ، ایسے زخم جن پر شاید کوئی مرہم اثر نہ کرسکے ۔ بس ایک کاش ہی رہ جاتا ہے ۔۔
آج بھی اس کی چھوئی ہوئی ہر چیز میں اس کا لمس موجود ہے ۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود ایک احساس ہے ایک قربت کا رشتہ ہے جو بظاہر نظر نہ آنے کے باوجود بھی جوڑے رکھے ہے ۔ بہنوں کا تعلق شاید ایسا ہی ہوتا ہے ۔مر کر بھی احساس جوڑے رکھتا ہے ۔آج سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ادھورا لگتا ہے جب اپنی الماری کھولتی ہوں جس کی ایک سائڈ تمھاری تھی آج وہ پوری میری ہے ، پہلے اپنی چیزیں دینا اچھا نہیں لگتا تھا آج کوئی کہنے والا ہی نہیں ہے میری شرٹ نہیں پہننا ،کوئی کہنے والا ہی نہیں کہ تم نے میری چاکلیٹ بھی کھا لی ۔۔۔
اب جب کچھ کہیں رکھتی ہوں وہیں سے مل جاتا ہے کوئی ہٹانے والا ہی نہیں ہے ۔۔ اب کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کی آرزوبھی نہیں ، کیونکہ کوئی نہیں کہتا مجھے بیٹھنا ہے تم ہٹو ۔۔ اب کوئی میرے لئے لڑنے والا نہیں کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو کچھ کہنے کی ۔۔
اب میرے پاس سب کچھ ہے لیکن شئیر کرنے کیلئے کوئی نہیں ۔۔۔
آج بھی ہمارے ٹینس کے ریکٹ ، ویڈیو گیم کے جوائے اِسٹک اور ناجانے کیا کیا سب ویسا ہی رکھا ہے ۔جیسے یہ سب بھی کہیں نہ کہیں منتظر ہیں اس بات کے تم آؤ گی ہم ساتھ میں کھیلیں گے ۔۔۔
اب مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا یہ کہنا کہ میں اکلوتی ہوں ۔۔ نہیں نہیں تم ہو نا میرے آس پاس کہیں ۔۔
No comments:
Post a Comment