قطب الدین ہمارے راستے سے ہٹ جائو، ورنہ ہم تمھیں بھی گولیوں سے چھلنی کر دیں گے۔
چار بندوق بردار جنہوں نے اپنے چہروں کو کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا ۔ ایک سولہ سترہ سالہ نوجوان کو اپنے سامنے سے ہٹنے کو کہہ رہے تھے۔ جس کا لباس بھی باقیوں جیسا تھا مگر اس کے ماتھے سے خون رِس رہا تھا اور جسم پر بم بندھا ہوا تھا۔ اس کے عقب میں ایک عمارت تھی جسے وہ تباہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر شاید قطب الدین ہاں وہ اس لڑکے کو اسی نام سے پکار رہے تھے وپ عین موقعے پر ان کا ساتھ دینے سے انکاری ہو رہا تھا۔
ان چار نقاب پوش دہشت گردوں میں سے ایک بڑھتا ہے اس نے مسلسل بندوق تانی ہوئی ہے۔ قطب الدین کے ماتھے پر پسینے کی لکیر بہہ کر رستے خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ جو شاید ان چاروں کی آپسی لڑائی کی وجہ سے لگنے والی چوٹ کا نتیجہ تھا۔
جیسے ہی وہ لڑکا قریب آتا ہے قطب الدین ایک زوردار لات مارتا ہے کہ اس کی بندوق دور جا گرتی ہے۔
سب یہاں سے ہٹ جائو ورنہ میں کامی کو مار دوں گا۔قطب الین اس لڑکے کو گردن سے پکڑے کھڑا تھا ۔ باقی سب بھی گھبرائے ہوئے تھے اگر غلطی سے بم پھٹ گیا تو اپنے وعدے کے خلاف
No comments:
Post a Comment