Sunday, 20 May 2018

دھرنوں کی سیاست

والد کی اہمیت  ایک ستون کی سی ہوتی جو نہ ہو یا زرا کمزور پڑ جائے تو سارا گھر بکھر جاتا ہے ۔ ناان کی جگہ کوئی لے سکتا ہے نہیں ۔ ان کے بعد کیا ہوتا ہے نظام چلتا تو ہے مگر کسی قابل نہیں رہتا ۔ کراچی کی پاکستان میں بلکل ایک والد کی سی حیثیت ہے جو پورے ملک کا ستر فیصد کما کر دے رہا ہے ۔ پورے ملک سے لوگ یہاں آکر بس جاتے ہیں جیسے وہ ہمیشہ سے اس کے ہی باسی ہوں ۔ یہ شہر اتنی اپنائیت رکھتا ہے کہ زبان ، رنگ نسل سے بالاتر ہر ایک شخص کو اپنا لیتا ہے۔ مگر شاید اس کے باسیوں کی کسی کو فکر ہی نہیں ۔ پانی ہے نہیں ، بجلی ہے نہیں ہے ، مہنگائی کتنی ہے کس کو فکر بس جیے جاریے ہیں۔ اس شہر کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ان لوگوں کا ہے جن کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جو ہجرت کر کرکے پاکستان آئے ۔اب ستر سال پرانی وابستگی بھی کوئی وابستگی ہوئی بھلا پہلا حق تو ان کا ہے جن کی پشتیں یہاں پیدا ہوئیں۔ اسی لئے تو کراچی لاورثوں کا شہر ہے ان کا کوئی وارث کہاں ۔۔۔
یونہی تو اس شہر کا ہر کونہ تعفن ذدہ ہے ، اس کا ہر کونہ تاریک ہو چلا ہے ۔ مگر لاوارث شہر کو کون پوچھے گا۔ یہاں تو دھرنے ہوتے ہیں دھرنے۔ ایک آتا ہے دھرنا کرتا ہے خاص طور پر اس علاقے میں جس کے مکینوں سے وہ کبھی بہ نفس نفیس ملنا تو دور اس نے ان کے بارے میں کبھی اچھا کہا بھی نہیں ۔ میڈیا نے ڈرون سے دیڈیوز بنائی اور دکھائیں کہ واہ دیکھیں تو زرا کیا شاندار اجتماع تھا اتنی بھیڑ جمع ہوئی زرا کوئی باہر کا منظڑ بھی دکھائے کہ جلسہ گاہ کے باہر آدھے شہر کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ جب پورے پاکستان سے گآڑیاں بھر کے جلسے میں شریک ہونے کو آئیں گے تو ٹریفک تو جام ہوگا ہی ۔ پھر سلسلہ شروع ہوتا ہے ایک بعد دیگر اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کھڑے ہوگئے کسی نے پل ، تو کسی نے گرائونڈ غرض جس کو جو جگہ ملی وہاں کرسیاں ڈال کر کھڑا ہوگیا ۔
وی آئی پی موومنٹ ہے بھئی کسی میں کوئی صاحب خطاب کریں کسی میں ، سب کے سب خاص بس ایک عوام ہے جو عام ہے اس کا ہی خون سستا ہے باقی تو یہاں سب مہنگا ہے ۔ھیوی پروٹوکول سڑکیں جام ، گھنٹوں ٹریفک میں پھنسی گاڑیاں، ایمبولینسز میں مرتے عوام مگر کیا ان کی زندگی کی کیا قیمت ہے ۔لاوارث شہر کے لوگ جو ٹہرے کون خیال کرے ان کا ۔
بانیان ِ پاکستان کی اولادوں نے اپنے لئے ایک گالی منتخب کی ہاں سیاست دانوں نے ان کے نام پر سیاست شروع کی ان کو مہاجر کہا ، نبی کریم ؐ کی ہجرت سے منسوب کر کے اسے معتبر گردانا مگر آنکھیں کھولئے آپ مالک ہیں پھر اپنی پہچان پر سمجھوتا کیوں سندھ میں رہنے والے خود کو سندھی کہلاتے ہیں وہ بھی تو کبھی ہجرت کر کے آئے تھے وہ خود کو دراوڑ یا مہاجر کیوں نہیں کہتے آپ کی بھی ایک منفرد پہچان ہے زبان ہے جس کا طرزتخاطب سامنے والے کو مبہوت کر دے ایسی شیریں زبان کے وارث خود کو مہاجر کیونکر کہلاتے ہیں کیا اس کے مطلب سے آشنا نہیں ۔۔
خیر جانے دیجئے بحث کا موضوع بدل جائے گا ۔یکے بعد دیگر ہونے والے ان دھرنوں کا تنیجہ کیا نکلا ، سب کے اپنے اپنے منشور تھے یہاں دھرنے کرنے سے پہلے کیا کسی بھی دھرنے  کے نتائیج آپ کو نظر آئے ۔ سیاست دان کا دوسرا نام خود سر اور ڈھیٹ ہے یعنی وہ کچھ بھی ہوجائے تب تک جھکے گا جب تک آپ سے ووٹ نہ لے لے اور اس کے بعد ایک لمبی لائن سائرن بجاتی گاڑیوں کی اس کے آگے اور پیچھے ہوگی جہاں آپ ٹریفک کی بھیڑ میں کھڑے دیکھ رہے ہوں گے کاش یہ جلدی نکلے تو مجھے اس عذاب سے نجات ملے ۔
کیا پانی ، بجلی کا مسئلہ حل ہوا ، کیا کراچی کو اس کے حق کے مطابق بجٹ ملا ، اتنے عرصے سے چلنے والا گرین لائن پروجیکٹ اس کا کیا اس پر کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ، پورا شہر اس کے نام پر کھود کر رکھ دیا ، متبادل کہے گئےجہاں ایک گھنٹے کا راستہ تھا اب وہ دو گھنٹے اور کسی غیر معمولی حالات جیسے یہ دھرنے ان میں تین گھنٹوں تک تجاوز کرگیاہے ۔ کہاں ہیں کرچی کے نام پر سیاست کرنے والے بتائے کیا دیا آپ کے دھرنوں نے اس شہر کو ، اس کی رونقیں ، اس کی خؤشیاں سب تو آپ چھین لیتے ہیں تاکہ جو بڑے مسئلے ہیں ان پر کسی کا دھیان ہی نہ جائے سب یہی سوچتے رہیں کہ فلاں جگی کا گٹر ابل رہا ہے لوگ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں چل کر جانے کو مجبور ہیں۔ جناب یہ کوئی کہانی نہیں میری آنکھوں دیکھا منظر ہے ۔ جہاں ایک مہینے سے زائد کوئی نہیں آیا ۔ ایک گھنٹے بجلی دو چار گھنٹے بندرکھو سب کو ایسے مسئلوں الجھا کر رکھو کہ کوئی اپنا حق ہی نہ مانگے کوئی یہ پوچھے ہی نہ کہ بھئی اتنا بجٹ پاس ہوا تھا کہاں لگا۔ کوئی یہ پوچھے ہی نہ کہ ہمارے مردم شماری کے نتائج آپ نے غلط دئے ہیں کوئی یہ پوچھے ہی نہ کہ وفاق نے ابھی تک ہمارے لئے کوئی پروجیکٹ کیوں نہیں دیا ۔ کوئی پوچھے ہی نہ کہ ہمارے ہاں ہر تھؤرے دن میں جگہ جگہ شاپنگ مال بن جاتےہیں ہناری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا کیا ہوگا  آپ نے کتب خآنے کیوں ںہیں بنائے ، کوئی یہ نا پوچھے کہ ہمارے کالجز میں اساتذہ پڑھانے کیوں ںہیں آتے ، ہمارے کالجز خستہ حالی کا شکار کیوں ہیں ان کیلئے کوئی کام کیوں نہیں ہورہا ہے ۔ اتنے  اکوچنگ سینٹرز کھول رہے  یہ پڑھائی کالجز میں کیونکر نہیں ہوتی ، کوئی یہ نہ پوچھے کہ سرکاری اسپتال میں کون سی ادویات دی جارہی ہیں ۔ کوئی یہ نا پوچھے کہ یہ  سیمپل کی دوائیاں کیونکر مرضوں کو دی جارہی ہیں کوئی فارما کمپنیوں کے خلاف آواز نہ اُٹھائے ، ہاں کیوں کہ یہاں ہر ایک چیز کاروبار ہے ایسا کاروبار جس میں کسی نے آواز اُٹھانے کی کوشش کی تو اسے ہمیشہ کیلئے ابدی نیند سلادو۔یہ ہے کراچی میں ہونے والے دھرنوں کی سیاست کا اصل چہرہ ۔

Friday, 18 May 2018

کوئی احساس تو کرے ۔۔۔

چھ سال میں پہلی بار مڈل ایسٹ سمیت دنیا بھر کے مسلمان ایک ساتھ پہلا روزہ رکھا ، پہلی سحری ، پہلی افطاری کے روح پرور مناظر کو محسوس کیا ۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ اور محسوس ہوا۔۔۔ مجھے تو فضاء میں بارود کی بو آرہی ہے ۔ چاروں طرف خون نظر اآرہا ہے ۔ ایک بار پھر غزہ سے خبریں اآرہی ہیں ۔ میری روح کھینچتی ہوئی محسوس ہورہی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کوئی میرا دل تیز دھار آلے سے کاٹ رہا ہو۔ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے شاید میں ناسمجھ ہوں مجھے سمجھ نہیں آتاے مسلکوں کے مسئلے ، مجھے ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان اپنے لگتے ہیں ۔ آج جب سحری کھانے کو بیٹھی تو اس ایک خیال نے میری روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ناجانے وہ لوگ اس وقت کس حال میں ہوں گے ۔ سحری تو کیا انہوں نے رات کو بھی کچھ کھایا ہوگا۔ یا وہ کسی محفوظ مقام کی تلاش میں یہاں وہاں بھٹک رہے ہوں گے ۔ 
امریکی صدر کا بیان جس میں وہ معصوم فلسطینیوں کے قتل پر مبارکباد پیش کر رہے تھے ۔ قابلِ مذمت ہے بلکہ قابلِ سزا ہیں یہ لوگ ، ان سے سخت حساب لیا جانا چاہئیے مگر کون لے گا۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ تعلٰی عنہ) جیسے رہنما کی منتظر یہ مسلم امہ ناجانے کب تک یونہی گھروں میں بیٹھی رہیں گے ۔ خاموش تماشائی بنے ۔انہی کے ملک میں گھس کر انہی کے گھروں کو تباہ کر رہے ہیں ۔ امن کی پیامبر بنی یہ بڑی بڑی تنظیمیں ڈوب مریں ۔ یو این او اور امریکہ کی پشت پناہی ، مسلم ممالک کی خاموشی ظالم کے ظلم میں سب برابر کے شریک ہیں ۔
کیا کھی یہ خیال نہیں آتا کہ اگر ان کی جگہ یہ ہمارے ساتھ ہوتا تو کیا ہوتا ۔ خدانخواستہ کوئی آپ کے کے شہر پر حملہ کردے گھرؤں کو مسمار کردے ، آ پ کے اپنے آپ کے سامنے دم توڑرہے ہوں آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہ ہو اس وقت آپ کو اپنی زندگی کیسی لگے گی ۔ نعمت یا آزمائش ۔۔ زرا سچئیے احساس کیجئے ہمارے ہاں فجر کی آزان ہوتی ہے نمازی فجر پڑھ کر گھرؤں کو لوٹ جاتے ہیں مگر وہاں یہ سوچ مشکل ہے اول تو واپس آنے کی امید ندارد کیا خبر کب کہاں سے کوئی گولہ بارود مسجد پر آپڑے اور سارے نمازی شہید ہوجائیں ۔ دوسرا وہ ہر نماز میں ناجانے کتنے پیاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں ۔
رمضان ہمیں اخوت ، بھائی چارے ، مساوات کا سبق سکھاتا ہے ۔ کیا یہ رمضان مسلم ممالک کے سربراہوں کو یہ سبق نہیں سکھا سکتا کہ ہم لڑجائیں اور بچالیں اپنے لوگوں کو ۔  کیا بحیثیت مسلمان ہم میں یہ احساس بیدار نہیں ہوسکتا ۔ کیا ہم یونہی بے بسی کی مورت بنے اس خؤن کی ہولی کو دیکھتے رہیں گے ۔ کیا ہماری آپسی رنجیشیں اتنی طول پکڑ چکی ہیں کہ مذہ سے اوپر ہوگئی ہیں ۔ کیا یہ خؤاب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا دنیا بھر کہ مسلمانوں کا جو قتلِ عام ہورہا ہے وہ رک جائے ۔ وہ اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ کیا ہم اللہ کے نام پر ایک نہیں ہوسکتے ۔کیا ہم واقعی غزہ کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ۔۔ کیا آپ ان سب کو اپنا نہیں مان سکتے ۔۔ کیا دعاؤں میں بھی کوئی جگہ نہیں ۔کاش ہم احساس کر پائیں ۔