اسٹیبلشمنٹ کے پکے والے لاڈلے کون ،ایم کیو ایم ، آپ سوچ رہے ہوں گے شاید میرا دماغ خراب ہوگیا ہے یا میں نشے میں ہوں ۔ تو جناب نہیں میں بلکل اپنے ہوش ہواس میں ہوں ۔ دیکھیں لاڈلوں پر ہی تو سارا دھیان ہوتا ہے کہ کب سانس لی کب کیا کیا کیا اور کیا نہیں کیا ۔
ایک بیان آیا سربراہ کی تقاریر پر پابندی ، راتوں رات سارے آفس مسمار ، مرکز سیل ، کارکنان کو گھسیٹتے ہوئے جیل لے گئے ۔ ولاہ کیا حب الوطنی کا مظاہرہ تھا کیا عرصہ بیت گیا مگر مناظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتے ۔
توجہی پیش کی گئی کہ رہنما نے پاکستان کے خلاف کہا تھا اس لئے ساری پارٹی کو ختم کردینا مناسب سمجھا ، شہر میں موجود قیادت کو قائد سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا اپنے وجود کی بقاء کیلئے کہ اس تحریک کو مٹا ہی نہ دیا جائے کہ اس میں ہزاروں شہیدوں کا لہو شامل ہے کوئی کیونکر اسے ختم کر سکتا تھا۔
خیر مدعے کی بات کرتے ہیں میں یہاں متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہونے والے اس قصے اک زکر لے کر نہیں بیٹھی میں تو نواز شریف صاحب کے بار ے میں پوچھنا چاہ رہی تھی بہت سوچا مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو خیال آیا آپ لوگوں سے ہی پوچھ لوں مجھ جیسی ناقص العقل کی سمجھ نا آیا تو کم سے کم آپ ہی لوگ میری کچھ رہنمائی کریں ۔
نواز شریف صاحب کرپٹ ثابت ہوچکے ہیں کروڑوں کا غبن ان پر ان کی صاحبزادی اور داماد پر ثاببت ہوچکا ہے لیکن پھر ان کی پارٹی انتخابات میں کھڑی ہے بڑے فخر سے کھڑی ہے ان کی پارٹی دفاتر بھی اسی آب و تاب سے قائم ہیں ۔ مجھے وجہ سمجھ نہیں آئی کہ شہباز شریف سے اپنے بڑے بھائی سے لاتعلقی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو کوئی صاحب آئے اپنی جسامت و وردی کا رعب و دبدبہ دکھا کر ان کی تزلیل کرنے کو ۔نہ ہی دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور اور تو مزے کی بات کسی کارکن کو اس کے گھر میں گھس کر اہلِ محلہ کے سامنے تحقیر آمیز رویہ اپنایا گیا۔ سب اپنی جگہ آرام سے رہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جا کر احتجاج بھی کیا ۔
ہوئی نہ متحدہ قومی موومنٹ اسٹیبلشمینٹ کی لاڈلی جماعت ان کی ہر بات پر دھیان رکھتے ہیں باقی کوئی کچھ کرتا ہے تو کرتا ہے رہے آخر فکر تو اپنوں کی ہوتی ہے نا آس پڑوس والا کیا کر رہا ہے کس کو فکر۔
پرویزخٹک صاحب خیبر پختون خواہ سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے جیتنے والے وہاں کے منسٹر ، اب ان کا بیان 2014 کا انہوں نے پاکستان کی شان میں گستاخی کی ملک توڑنے کی بات کی لیکن ان کی بات کون سنتا ہے بھئی وہ اپنے تھوڑی ہیں جو ان پر کان دھریں جو بول رہے ہیں بولتے رہیں ۔ وہ پنجابی میں کیا کہتے ہیں سانو کی ۔۔ بس سانو کی والا فارمولا کسی نے دھیان دینا مناس ہی نہیں سمجھا۔
آج کل ایک پارٹی پچھلے ایک مہینے سے زائد سے پانی کی طرح پیسہ بھا رہی ہے ملک گیر الیکشن کیپمئین چل رہی ہے ۔ بانی کے پاس اپنا گھر خریدنے کے پیسے نہیں ہیں سابقہ اہلیہ دور سے چلی آتی ہیں رسیدیں لے کر لوگ واہ واہ کرتے ہیں ریحام کو گالیا ں اور اس کو دعائیں دیتے ہیں ۔ ویسے بڑے مطلب والے لوگ ہیں جو اپنے مطلب کی بات کہے واہ کیا تہزیب ہے جو اپنے مطلب کے خلاف چلا جائے اُف توبہ کیسا بد زبان ہے ۔ خیر چھوڑیں ہم تو پوچھ رہے تھے کہ بھئی پارٹی فنڈ کا کیا دارومدار ہے کچھ حساب کتاب بتا دیں ۔ صرف کراچی میں اتنی گاڑیاں گھوم رہی ہیں جس میں جنریٹر کے ہمراہ شور مچاتے لوگوں کا سکون تباہ کرتے وہ الیکشن کیپئین کر رہے ہیں، گاڑی کرائے کی ہے تو اس کا خرچہ ، پیٹرول یا ڈیزل کا خرچہ ، جنریٹر وغیرہ کا خرچہ ،انتے بینرز پرنٹ ہوئے ان کا خرچہ جھنڈے بانٹے جارہے ہیں ان کا خرچہ ۔ جہاں جہاں اٖس ہیں زرا ان زمینوں کا بھی ضصاب دے دیجئے کرائے کی جگہ ہے تو کون ادا کر رہا ہے اور اگر اپنی ہے تو کس کی ہے ۔
یا آپ بھی ایرے غیروں میں شامل ہوتے ہیں جن سے سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا ۔
الیکشن میں امیدواروں سے ان کا مذہب و مسلک تو پوچھ رہے ہیں ان سے یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ جو تشہیر کر رہے ہیں اس کا خرچ کیسے پورا کر رہے ہیں اور اس سے پہلے کچھ کیا نہیں اب دوبارہ کس منہ سے ووٹ مانگنے آئے ہیں ۔