دی کنٹریکٹرجس کے مصنف ہیں اسٹروم ریبیک یہ کہانی تھی ریمنڈ ڈیوس کی جس کو انہوں نے کتابی شکل دی ۔ ان پچاس دنوں کی داستان جو بحیثیت پاکستانی قیدی انہوں نے یہاں گزارے اس کے علاوہ اس کتاب میں ریمنڈ ڈیوس کی ذاتی زندگی ان کی زوجہ سے متعلق باتیں ، محترمہ کا اپنا اظہارِ خیال اور پہلی ملاقات کو قصے کی شکل میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے گویا کوئی اپنی روز مرہ کی ڈائری لکھ رہا ہو۔ احساسات و جزبات کی عکاسی بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے ۔ مجھے یہ تعاریفی کلمات کہنے میں کوئی عار نہیں ، اسٹروم ریبیک نے بیت عمدہ کام کیا ہے ۔ لیکن چونکہ شخصیت جس پر کتاب لکھی گئی ہے وہ پاکستان کلیئے متنازعہ رہی ہے اس لئے اس میں بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو بحیثیت پاکستانی و مسلمان میرے لئے قابلِ برداشت نہیں تھیں ۔ اس کتاب میں واضح الفاظ میں ہمارے شہید وزیرِاعظم لیاقت علی خان پر نشے کی حالت میں لندن ائیر پورٹ پر ہونے کا الزام لگایا گیا ۔آپ یہ کتاب پڑھنا شروع کریں گے تو ہر ایک لفظ متانزع ہے ۔ انہوں نے اپنے گناہوں کا اس کتاب میں یوں تزکرہ کیا ہے گویا کوئی ٹرافی جیتی ہو اور کیوں نہ ہو ایک مجرم جرم کے ثابت ہواجنے کے باوجود بھی صحیح سلامت اپنی سرزمین لوٹ جاتا ہے اسے فخر کےساتھ غرور بھی تو ہوگاہی ۔
اپنی کتاب میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے کام کی نوعیت کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانٹریکٹرز سپلائی کرتی ہیں ۔ یعنی ایسے جنگجو لوگ جو کسی بھی دوسری ملک کی فوج کا حصہ بن کر ان کیلئے کام کریں۔
خیر جانے دیجئے بڑے شریف لوگ ہیں ۔آگے بڑھتے ہیں جناب واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ میں نے بیان ایک بار دیا تاکہ بار بار پوچھنے پر وہ مجھے سے کچھ نہ نکلوالیں ۔ کچھ سوال ان کی پاکستان آمد پر اُٹھے تھے کہ یہ آخر کیوں آئے تھے ، کیا کام تھا ان اکا یہا ں اور دوسری بات ہہ اس لاہور میں کیا کر رہے تھے ۔۔۔ کیا وہ مرنے والے واقعی چور تھے جنہیں آپ آئی ایس آئی ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔۔ آپ کے مطابق آپ انٹرنیشنل امیونٹی رکھتے تھے اور لاہور میں سیکیورٹی چیک کرنے آئے تھے تو بتانے میں کیا حرج تھا کہ آپ کہاں کہاں سے گزرے ۔۔
کیا پاکستانی حکومت امریکی آفیشیلز کے دورے کیلئے حفاظتی اقدامات میں امریکن عہدے داروں کی مدد نہیں کرت
اپنے گھر میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے ۔ جو باتیں کتاب میں کہی ہیں ان کا ایک فیصد بھی اپنی سیکیورٹی کے ہمراہ ہی پاکستان میں کہہ دیتے تو شاید آپ کو اندازہ ہوجاتا ہمارے یہاں لاہور میں خؤاجہ سرا وہ کام نہیں کرتے جن کا آپ ان پر الزام لگا رہے ہیں ۔ یقین جانئے وہ جس طاقت سے تالی بجاتے ہیں اگر اسی طاقت کا مظاہرہ ایک تھپڑ کی صورت آپ کے رخصار پر ہوجاتا تو سارے شک و شبہات خود بخود دور ہوجاتے ۔
زکر چھڑا عافیہ صدیقی کا ان کو ایک دہشت گرد خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ، خیر اس کے علاوہ شنید بھی کوئی نہیں لیکن ایک سوال آپ کا اپنے بارے میں کی اخیال ہے ۔ دن دھاڑے دو لوگوں کو سڑک پر گولی مار دی اور سیاسی دبائو بڑھا کر ملک سے نکل گئے ۔ کہتے ہیں جس کا خؤ د کا گھر کانچ کا ہو وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے ۔ لمبی لمبی کہانیاں لکھی ہیں ۔ واضح الفاظ میں پکاستان کو دہشتگرد ملک کہا ہے۔ آپ کا امریکہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔
آپ اتنے عام اور بے ضرر انسان تھے کہ صدر کی خاص خبروں میں آپ شامل رہے آپ کو آزاد کرونا ان کا مقصدِ اولین رہا ۔۔ اور تو آپ کے ملک کی حکومت اتنی معصوم اور بے ضرر سی ہے کہ دہرے خون کے مجرم کو کہ جرم ثابت ہوچکا تھا پاس کے باوجود وہ یوں چھڑا کر لے گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔
ویسے لکھنے لگی تو دل کرے گا ہر بات کا جواب دوں لیکن اسے مختصر کرتے ہیں۔صاحب کو عزت زیادہ ملی یہاں جو نہیں ملنی چاہیے تھے ورنہ روز مرغی کا سالن ملنے کی شکایت نہ ہوتی ، اس ملک کی جیل میں چکن اور پیزا ملتا رہا اگر وہ دوسرے قیدیوں کی حالت دیکھ لیتے تو یہ شکایتیں نہ ہوتیں ۔۔ خیر روز چکن کھلا کر اتنا ظلم نہیں کرنا چاہئے تھے حکومتِ پاکستان کو ۔۔