Friday, 30 March 2018

بھاگو رے بھاگو

دی کنٹریکٹرجس کے مصنف ہیں اسٹروم ریبیک یہ کہانی تھی ریمنڈ ڈیوس کی جس کو انہوں نے کتابی شکل دی ۔ ان پچاس دنوں کی داستان جو بحیثیت پاکستانی قیدی انہوں نے یہاں گزارے اس کے علاوہ اس کتاب میں ریمنڈ ڈیوس کی ذاتی زندگی ان کی زوجہ سے متعلق باتیں ، محترمہ کا اپنا اظہارِ خیال اور پہلی ملاقات کو قصے کی شکل میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے گویا کوئی اپنی روز مرہ کی ڈائری لکھ رہا ہو۔ احساسات و جزبات کی عکاسی بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے ۔ مجھے یہ تعاریفی کلمات کہنے میں کوئی عار نہیں ، اسٹروم ریبیک نے بیت عمدہ کام کیا ہے ۔ لیکن چونکہ شخصیت جس پر کتاب لکھی گئی ہے وہ پاکستان کلیئے متنازعہ رہی ہے اس لئے اس میں بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو بحیثیت پاکستانی و  مسلمان میرے لئے قابلِ برداشت نہیں تھیں ۔ اس کتاب میں واضح الفاظ میں ہمارے شہید وزیرِاعظم لیاقت علی خان  پر نشے کی حالت میں لندن ائیر پورٹ پر ہونے کا الزام لگایا گیا ۔آپ یہ کتاب پڑھنا شروع کریں گے تو ہر ایک لفظ متانزع ہے ۔ انہوں نے اپنے گناہوں کا اس کتاب میں یوں تزکرہ کیا ہے گویا کوئی ٹرافی جیتی ہو اور کیوں نہ ہو ایک مجرم جرم کے ثابت ہواجنے کے باوجود بھی صحیح سلامت اپنی سرزمین لوٹ جاتا ہے اسے فخر کےساتھ غرور بھی تو ہوگاہی ۔
اپنی کتاب میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے کام کی نوعیت کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانٹریکٹرز سپلائی کرتی ہیں ۔ یعنی ایسے جنگجو لوگ جو کسی بھی دوسری ملک کی فوج کا حصہ بن کر ان کیلئے کام کریں۔
خیر جانے دیجئے بڑے شریف لوگ ہیں ۔آگے بڑھتے ہیں جناب واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ میں نے بیان ایک بار دیا تاکہ بار بار پوچھنے پر وہ مجھے سے کچھ نہ نکلوالیں ۔ کچھ سوال ان کی پاکستان آمد پر اُٹھے تھے کہ یہ آخر کیوں آئے تھے ، کیا کام تھا ان اکا یہا ں اور دوسری بات ہہ اس لاہور میں کیا کر رہے تھے ۔۔۔ کیا وہ مرنے والے واقعی چور تھے جنہیں آپ آئی ایس آئی ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔۔ آپ کے مطابق آپ انٹرنیشنل امیونٹی رکھتے تھے اور لاہور میں سیکیورٹی چیک کرنے آئے تھے تو بتانے میں کیا حرج تھا کہ آپ کہاں کہاں سے گزرے ۔۔ 
کیا پاکستانی حکومت امریکی آفیشیلز کے دورے کیلئے حفاظتی اقدامات میں امریکن عہدے داروں کی مدد نہیں کرت
اپنے گھر میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے ۔ جو باتیں کتاب میں کہی ہیں ان کا ایک فیصد بھی اپنی سیکیورٹی کے ہمراہ ہی پاکستان میں کہہ دیتے تو شاید آپ کو اندازہ ہوجاتا ہمارے یہاں لاہور میں خؤاجہ سرا وہ کام نہیں کرتے جن کا آپ ان پر الزام لگا رہے ہیں ۔ یقین جانئے وہ جس طاقت سے تالی بجاتے ہیں اگر اسی طاقت کا مظاہرہ ایک تھپڑ کی صورت آپ کے رخصار پر ہوجاتا تو سارے شک و شبہات خود بخود دور ہوجاتے ۔
زکر چھڑا عافیہ صدیقی کا ان کو ایک دہشت گرد خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ، خیر اس کے علاوہ شنید بھی کوئی نہیں لیکن ایک سوال آپ کا اپنے بارے میں کی اخیال ہے ۔ دن دھاڑے دو لوگوں کو سڑک پر گولی مار دی اور سیاسی دبائو بڑھا کر ملک سے نکل گئے ۔ کہتے ہیں جس کا خؤ د کا گھر کانچ کا ہو وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے ۔ لمبی لمبی کہانیاں لکھی ہیں ۔ واضح الفاظ میں پکاستان کو دہشتگرد ملک کہا ہے۔ آپ کا امریکہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔
آپ اتنے عام اور بے ضرر انسان تھے کہ صدر کی خاص خبروں میں آپ شامل رہے آپ کو آزاد کرونا ان کا مقصدِ اولین رہا ۔۔ اور تو آپ کے ملک کی حکومت اتنی معصوم اور بے ضرر سی ہے کہ دہرے خون کے مجرم کو کہ جرم ثابت ہوچکا تھا پاس کے باوجود وہ یوں چھڑا کر لے گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔ 
ویسے لکھنے لگی تو دل کرے گا ہر بات کا جواب دوں لیکن اسے مختصر کرتے ہیں۔صاحب کو عزت زیادہ ملی یہاں جو نہیں ملنی چاہیے تھے ورنہ روز مرغی کا سالن ملنے کی شکایت نہ ہوتی ، اس ملک کی جیل میں چکن اور پیزا ملتا رہا اگر وہ دوسرے قیدیوں کی حالت دیکھ لیتے تو یہ شکایتیں نہ ہوتیں ۔۔ خیر روز چکن کھلا کر اتنا ظلم نہیں کرنا چاہئے تھے حکومتِ پاکستان کو ۔۔

Thursday, 29 March 2018

تبصرہ -- ابنارمل کی ڈائری سے

درد  درد ہوتا ہے یہ میرا یا تمھارا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمارا ہوتا ہے۔ چوہدری صاحب آپ نے بلکل ابتدائ میں ہی یہ کہا کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کیوں۔۔ تو اس کا جواب تو آپ اس سے پہلی والی چند سطور میں ہی دے چکے ہیں ۔ آج کی اس بھاگتی دنیا میں جہاں بعض اوقات ہم اپنے درد کو نظر انداز کر جاتے وہاں آپ نے دوسرے کے درد کی اصطلاح کو ہی ختم کر دیا اور ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی ہمارا۔۔ شاید اس سے بہتر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
اس کتاب میں ایک شخص کے قصے کو کتابی شکل دی گئی ہے جو ناجانے کتنے لوگوں کیلئے مشعلِ راہ ہوسکتا ہے کیونکہ مجھے جو درد ملا ہے اسے میں دوسروں تک پہنچائوں گا کا چلن معاشرے میں عام ہوچکا ہے۔لیکن یہ سوچ بیدار کرنا جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو جو درد مجھے سہنا پڑا وہ کسی اور کو نہ سہنا پڑے جیسے عضیم جزبوں کا پرچار کیا گیا ہے جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ 
انتساب میں ایک نہایت ہی خوبصورت تھی اس کتاب کو نبی ﷺ کے نام منسوب کیا گیا ، چند سطور واقعی کمال تھیں کہ اگر چودہ سو سال پہلے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری نہ ہوتی تو ہم راہِ راست سے مشتشنہ کہیں اندھیروں میں بھٹکے ہوئے ابنارمل ہی تو ہوتے ۔ 
جو قارئین میری تحریر اس وقت پڑھ رہے ہیں یقین جانیئے یہ میرے خیالات ہیں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جو برجستہ ہیں کوئی گھنٹوں کا سوچ بچار نہیں میری باتوں کی تصدیق آپ کتاب کو پڑھ کر کرسکتے ہیں۔

Monday, 12 March 2018

کوئی تو درد کی دوا ہو۔۔

برما، شام، فلسطین، عراق۔۔۔ کتنے نام لوں کس کس درد کا حساب مانگوں ۔۔۔ کون دے گا حساب آپ ، میں ۔۔ یا وہ جن کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں ۔۔ شاید ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ہاں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہوا کرتا ہے ۔
ساری دنیا خآموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ہر گزرتا پل بس بڑھتی ہوئی تباہی کے سواکچھ نہیں ۔ دنیا بھر کا میڈیا، سچائی کے عکمبردار صحافی حضرات، ہماری موم بتی مافیا سب خاموش ہیں کیوں ۔۔ کیا ان مرنے والوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ۔۔ کیا انسانیت کا یہی شیوہ ہے یا ہم سب واقعی اتنے کمزور ہیں کہ سوائے چپ چاپ دیکھنے کہ اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ کچھ دن پہلے دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس میں ایک سیرین بچی مدد کو پکارتی رہی دوسری طرف ایک سیرین بچے کا آپریشن دکھایا جہاں اسپتال میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی اس کا آپریشن پورے ہوش و ہواس میں کیا گیا ۔۔۔ اس کے درد کی دوا ربِ کائنات کا کلام پاک تھا جس کا درد اس کی زبان پر جاری رہا ۔۔۔
بڑی بے دردی سے خون میں لتھڑے انسانی جسم ، خون میں نہائے انسانی اعضاء کی تصاویر تو ایسے شئیر کرتے ہیں گویا جہاد کر رہے ہیں اور ابھی بس سب فتح کرکے مظلومین کو انصاف دلائیں گے ۔احساس کیا ہوتا ہے شاید جانتے ہی نہیں بس ایک مشین بن گئے ہیں جو سیزن کے حساب سے چلتی ہے ابھی کرکٹ لیگ چل رہی ہے تو پھر اس کے بعد کچھ اور ہوگا اس دوران کچھ وقت پہلے کی بات یاد کسے رہے گی ۔ 
حکومت سے کیا شکوہ کروں وہ تو ایسے بے حس بھیڑیوں کا ہجوم ہے جو بس عوام کو نوچ نوچ کے اپنی قندیلیں بھر رہا ہے اس کی ہوس پوری ہی نہیں ہوتی ۔لیکن شکوہ بھی کروں تو کس زباں سے ان کو اپنے سر پر مسلط بھی تو کرنے والی میں ہوں۔۔۔ آپ ہیں ۔۔ہم سب ہیں ۔۔ سب جانتے ہوئے بھی ووٹ صرف ہمارے زبان والے کو ہی جاتا ہے کیوں ۔۔ 
شاید جس دن ہم اس کیوں کا جوا ب ڈھونڈ پائے تو پکستان اپنا وہ کھویا ہوا وقار پالے گا کہ جب ایران اور ترکی کو ضرورت تھی تو ہمارے جنگی جہاز ان کی فضائوں میں اس غرور کے ساتھ پرواز کر رہے تھے گویا کہتے ہوں آئو کس مائی کے لعل میں ہمت ہے ہم کھڑے ہیں اپنی زمیں کے سپوت جو اسلام کیلئے وجود میں آئی اور آج اسلام کی بقاء و سلامتی کیلئے سینہ 
سپر کھڑے ہیں۔ 
  ہم تو وہخوش نصیب لوگ ہیں جن کی چشمِ بصارت بھی ہے ، قوتِ گویائی بھی جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکتی ہے 
اور سماعتیں بھی جو چیخ و پکار ملسلسل سن رہی ہے مگر ہم اندھے ، گونگے ، بھرے بنے بیٹھے ہیں ۔ اگر پوری یکسوئی کے ساتھ اس مسئلے پر ڈٹ جائیں تو کسی کافر کی مجال وہ ایسا کوئی گھنائونا خوب بھی دیکھ سکے ۔ کبھی بیت المقدس ، کبھی برما ، کبھی فلسطین ، شام اور عراق۔۔۔ کفار مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کر رہے ہیںاور ہم ۔۔ ہم بس دیکھ رہے ہیں ۔کیونکہ ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وقتی جوش چڑھتا ہے سیاسی رہنما اپنے پریوکاروں کو جمع کرتے ہیں جوشیلی تقریریں ہوتی ہیں تصوریرں لی جاتی ہیں ، میڈٰیا کی زینت بنتی ہے واہ واہی اور  شہرت سمیٹ عام زندگیوں میں لوٹ جاتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کتہی احتجاج نہ کریں کریں لیکن ایک دفعہ کہہ کر اتنا لمبا توقف کیوں اپنی بات پر ڈٹ جائیے ۔انسانیت کے علمبرداروں سے حساب مانگئے ان  طاقت کے دیوتائوں سے حساب مانگئے جو پس پردہ اس سب میں ان ظالموں کے ساتھی ہیں ۔
کیا بحیثیت مسلمان ہماری اتنی ذمہ داری ہے کہ ہم نماز ، روزہ رکھیں ۔۔ بس ! کیا یہ مظلوم مسلامن ہماری ذمہ داری نہیں ۔ کیا جواب دیں گے ہم روزِ محشر ۔۔ یہی کہ ہمیں سب پتہ تھا لیکن ہم کر بھی کیا سکتے تھے ۔ 
ایک شکوہ سب کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایکا نہیں ہے، کبھی سوچا کیوں نہیں ہے۔ رنگ ، نسل، زبان ۔۔ نہیں یہ تفریق تو اسلام نے چعدہ سو سال پہلے ہی ختم کردی لیکن پھر۔۔ ہآں پھر آتے ہیں مسلک، جی مسلمانوں کے فرقے۔ پھر نکلتے ہیں فتوے پر مسلمان مسلمان کو کافر قرار دیتا ہو پایا جاتا ہے ۔ وہ تو ایک غیر مذہب ہی ہے جو ہمیں مسلمان جانتا ہے ورنہ ہم مسلمان بعد میں کسی مسلک کے اور پیر کے جدی پشتی مرید پہلے ہیں اور احترام۔۔ وہ کیا ہوتا ہے وہ تو ہم جانتے ہی نہیں ۔ ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام یہ ہم سے نہیں ہوگا ۔
سرورِ کونین ﷺ نے اتنے سال پہلے غیر مسلم کے عقیدے کا احترام کرنا سکھایا تھا کہ نہ پم انہیں برا کہیں گے اور تب تک ان سے کچھ نہیں لڑیں گے جب تک وہ ایسا کچھ نہ کریں ۔ یہاں تو ہم آپس میں فساد پیلانے سے بعض نہیں آرہے۔
ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ۔۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے کی سوچ ایک مسلمان کی نہیں ہونی چاہئیے ۔ کیونکہ یاد رکھئیے قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے ، چھوٹی چھوٹی ابابیل نے ابراہم لنکن کی عضیم الشان فوج کو عبرت ناک شکست دی تھی پھر تین سو تیرہ کا لشکر دس ہزار کفار پر بھاری پڑا تھا ہم انہی میں سے ہیں کوشش چھوٹی کیوں نہ ہو مسلسل ہونی چاہئیے پھر انتھک محنت ایک دن رنگ ضرور لاتی ہے ۔ کیونکہ مسلمانوں کا تو حامہ و ناصر ہمیشہ سے ربِ کریم رہا ہے۔ 
ربِ کائنات ہم سے راضی ہوں،ہمیں وہ یکجہتی اور طاقت دے کہ مسلمان اپنا وقار اس دنیا میں دوبارہ قائم کر سکیں۔ آمین