میں اہلِ تشیع مسلک سے ہوں لیکن مجھے تم قبول ہو کیا اس زندگی کے سفر میں تم میرا ساتھ دوگی ۔۔ عرفات نے اپنے سامنے بیٹھے اس ناتواں وجود کی جانب دیکھتے ہوئے کہاجو اس وقت ناجانے کسی خوف کی سی کیفیت میں سر جھکائے بیٹھی تھی ۔ وہ ناتواں نہیں تھی لیکن اپنا دل ہار بیٹھی تھی ایسی جگہ جہاں اس کو اپنی ساری توانائیاں ختم ہوتی محسوس ہورہی تھیں ۔ پل بھر کو اس نے نظر اُٹھا کر ان نگاہوں کا سامنا کیا جن دیکھ کر اس کر کا من ہمیشہ کھل اُٹھتا تھا ۔
میں ہمیشہ سے آپ کی تھی اور آپ کی رہوں گی ، لیکن شاید یہ مسلکوں کی دیوار اتنی بلند و مضبوط ہے کہ اس دنیا میں تو یہ ملن ممکن نہیں ۔ عائشہ صدیقی کی آنکھوں میں چلنے والی تحریر کو عرفات باآسانی پڑھ سکتا تھا ۔ عائشہ میرے ماں ، بابا کو اور تمھارے والدین کو میں منا لوں گاپھر بھی تم معاشرے سے ڈر رہی ہو۔۔
میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی ۔۔۔
اور میں تمھارے بغیر جینا نہیں چاہتا ۔۔
بیت وقت دونوں کی آنکھیں بھر آئی تھیں جذبات سے ۔۔ بے بسی سے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرفات حسین ولد یاسر حسین آپ کو عائشی صدیقی بنتِ ارحم صدیقی حق مہر ۴ لاکھ روپے میں پاکستانی میں قبول ہیں ۔ مولوی صاحب کے منہ سے ادا ہوئے یہ الفاظ اس کی سماعتوں میں رس گھول رہے تھے ۔ وہیں کچھ ایسے الفاظ بھی اس کی سماعتوں کی نظر ہورہے تھے جو اس کی روح کو چھلنی کر دینے کو کافی تھے ۔ جہاں مسلکوں کے فرق پر یہ احساس دلانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ جیسے وہ کسی غیر مسلم سے شادی کرنے جارہا ہویہی کوئی صورتحال عائشہ کی طرف تھی جہاں نکاح کی خوشی میں سرشار وہ خود کو ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس کررہی تھی وہیں یہ جملے اس کی روح پر چلتے تیروں کی مانند تھے ۔ لیکن یہ تو ابتداء تھی انہوں نے بڑا فیصلہ لیا تھا ۔ جس کا انجام کتنا درد ناک ہوسکتا تھا یہ وہ دونوں اچھے سے جانتے تھے ۔ لیکن دل لگی ہوتی ہی ایسی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی جلدی چلیں باہر ۔۔ وہ بھائی اور بھابھی۔۔ زینب نے روتے ہوئے بتایا ، اب دونوں ماں بیٹی خود کو چادروں میں ڈھانپتے ہوئے اس مقام کی جانب دوڑی جارہی تھیں کہ جہاں ان کا بیٹا اور بھائی ناجانے کس حال میں تھا ۔
کلمۂ حق بلند ہو ۔۔۔ نعرہ حیدری۔۔۔ ایک ہجوم تھا جو نعرہ بازی کر رہا تھا لیکن نعروں سے صاف ظاہر تھا دو الگ الگ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں ۔ بھیڑ میں سے جگہ بنا کر آگے آئیں دونوں تو آنکھیں تو جیسے پتھرا گئیں ۔ جوان جہاں عرفات بجلی کے کھمبے پر بندھا ہوا تھا ، جس کے کپڑے خون اور مٹی سے آلودہ تھے سامنے پتھروں کا ڈھیر تھا ہر ایک پتھر پر لگا لہو چیخ چیخ کر حالات اور اس ظلم اور قیامت صغرا کی غمازی کر رہاتھا جو مذہب کے نام پر یہاں برپا کی گئی تھی ۔ وہیں کچھ فاصلے پر ایک بے جان بے پردہ وجود اس بھیڑ کے سامنے پڑا تھا ، اس کی کھلی سوال کرتی آنکھیں اس بے حس بھیڑ سے سوال کر رہی تھیں کہ اسے کیوں مارا ، کیوں اس کی خوشیاں چھین لی گئیں ۔۔ جس بات کی اجازت اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) نے دی تم کس حق سے چھین رہے ہو ۔۔ لیکن عائشہ نے صحیح کہا تھا نا کا ملن اس جہان میں ممکن نہیں کہ یہاں تو مسلمان اﷲ کے نہیں انسانوں کے ماننے ولاے ہیں ۔ کاش کے شیعہ سنی کی جگہ ہم مسلمان بھی بن پاتے ۔۔۔
اے کاش۔۔
میں ہمیشہ سے آپ کی تھی اور آپ کی رہوں گی ، لیکن شاید یہ مسلکوں کی دیوار اتنی بلند و مضبوط ہے کہ اس دنیا میں تو یہ ملن ممکن نہیں ۔ عائشہ صدیقی کی آنکھوں میں چلنے والی تحریر کو عرفات باآسانی پڑھ سکتا تھا ۔ عائشہ میرے ماں ، بابا کو اور تمھارے والدین کو میں منا لوں گاپھر بھی تم معاشرے سے ڈر رہی ہو۔۔
میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی ۔۔۔
اور میں تمھارے بغیر جینا نہیں چاہتا ۔۔
بیت وقت دونوں کی آنکھیں بھر آئی تھیں جذبات سے ۔۔ بے بسی سے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرفات حسین ولد یاسر حسین آپ کو عائشی صدیقی بنتِ ارحم صدیقی حق مہر ۴ لاکھ روپے میں پاکستانی میں قبول ہیں ۔ مولوی صاحب کے منہ سے ادا ہوئے یہ الفاظ اس کی سماعتوں میں رس گھول رہے تھے ۔ وہیں کچھ ایسے الفاظ بھی اس کی سماعتوں کی نظر ہورہے تھے جو اس کی روح کو چھلنی کر دینے کو کافی تھے ۔ جہاں مسلکوں کے فرق پر یہ احساس دلانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ جیسے وہ کسی غیر مسلم سے شادی کرنے جارہا ہویہی کوئی صورتحال عائشہ کی طرف تھی جہاں نکاح کی خوشی میں سرشار وہ خود کو ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس کررہی تھی وہیں یہ جملے اس کی روح پر چلتے تیروں کی مانند تھے ۔ لیکن یہ تو ابتداء تھی انہوں نے بڑا فیصلہ لیا تھا ۔ جس کا انجام کتنا درد ناک ہوسکتا تھا یہ وہ دونوں اچھے سے جانتے تھے ۔ لیکن دل لگی ہوتی ہی ایسی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی جلدی چلیں باہر ۔۔ وہ بھائی اور بھابھی۔۔ زینب نے روتے ہوئے بتایا ، اب دونوں ماں بیٹی خود کو چادروں میں ڈھانپتے ہوئے اس مقام کی جانب دوڑی جارہی تھیں کہ جہاں ان کا بیٹا اور بھائی ناجانے کس حال میں تھا ۔
کلمۂ حق بلند ہو ۔۔۔ نعرہ حیدری۔۔۔ ایک ہجوم تھا جو نعرہ بازی کر رہا تھا لیکن نعروں سے صاف ظاہر تھا دو الگ الگ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں ۔ بھیڑ میں سے جگہ بنا کر آگے آئیں دونوں تو آنکھیں تو جیسے پتھرا گئیں ۔ جوان جہاں عرفات بجلی کے کھمبے پر بندھا ہوا تھا ، جس کے کپڑے خون اور مٹی سے آلودہ تھے سامنے پتھروں کا ڈھیر تھا ہر ایک پتھر پر لگا لہو چیخ چیخ کر حالات اور اس ظلم اور قیامت صغرا کی غمازی کر رہاتھا جو مذہب کے نام پر یہاں برپا کی گئی تھی ۔ وہیں کچھ فاصلے پر ایک بے جان بے پردہ وجود اس بھیڑ کے سامنے پڑا تھا ، اس کی کھلی سوال کرتی آنکھیں اس بے حس بھیڑ سے سوال کر رہی تھیں کہ اسے کیوں مارا ، کیوں اس کی خوشیاں چھین لی گئیں ۔۔ جس بات کی اجازت اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) نے دی تم کس حق سے چھین رہے ہو ۔۔ لیکن عائشہ نے صحیح کہا تھا نا کا ملن اس جہان میں ممکن نہیں کہ یہاں تو مسلمان اﷲ کے نہیں انسانوں کے ماننے ولاے ہیں ۔ کاش کے شیعہ سنی کی جگہ ہم مسلمان بھی بن پاتے ۔۔۔
اے کاش۔۔