Tuesday, 26 September 2017

ہمارا تعلق

ہمارا تعلق۔۔ کیا کہوں اس بارے میں  عاشق اور معشوق  تو نہیں لیکن اس سے کم بھی  نہیں ۔ ۔ 
تمھارے بناء زندگی عذاب ہو جیسے ، مانو کسی نے پھندا لگایا ہو لیکن پھر بھی زندہ ہوں ۔۔ گھر والے تمھیں پسند نہیں کرتے خاص کر میری ماں ان کے لعن طعن تو ختم ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن اگر میں ان کی نظر سے دور ہوجاؤں تو تم ہی ان کی آخری امید بن کر ہماے درمیان تعلق کا زریعہ بنتے ہو۔ تم میرے دکھ، درد، خوشی غرض ہر پل کے ساتھی بن گئے ہو ۔ تم نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہو توسب ویران سا لگتا ہے ۔جب تک تمھیں ڈھونڈ نہ لوں دل کو قرار نہیں آتا ۔۔ تمھارے ساتھ کی ایک عادت سی ہے مجھ کو ۔۔ جب کبھی تم گر جاتے ہو سہم جاتی ہوں۔۔ دل حلق میں آتا محسوس ہوتا ہے ، آنکھیں نم اور ایک انجانی کسک ہوتی ہے ۔۔ تمھیں کھو دینے کا خوف ایک تڑپ بن کر مجھے تمھاری جانب کھینچتا ہے من کرتا ہے تمھیں چھو کر دیکھوں کہیں کچھ ہوا تو نہیں اور جب اس من کو تسلی ملتی ہے تب جذبات کے ہاتھوں مجبور میرے لب تمھیں چھو لیتے ہیں اور دل سے آواز آتی ہے 
شکر اﷲ کا اسکرین نہیں ٹوٹی ورنہ چار ہزرا سے کم کی انڈرائیڈ کی اسکرین تو کہیں لگتی ہی نہیں ۔۔ میرا موبائل ، دل عزیز موبائل۔۔ 

Thursday, 7 September 2017

میں تعفن زدہ ۔۔ میری فریاد سنو!


میں مجبور و بے کس ، بے یارو مددگار ، توجہ کا طالب ۔۔ منتظر ہوں اس بات کا جب کوئی یہ مان لے کہ میں اس کی ذمہ داری ہوں ۔ میرے ہر گوشے سے اب ناگوار بو اُٹھنے لگی ہے ۔ میرے ساتھ لوگ رہنے پر مجبور ہیں کہ کہیں جا نہیں سکتے اس لئے ناگواری کا احساس مجھ سے منہ موڑے اپنے چہرے پر کپڑا ڈھانپ کر کراتے ہیں ۔میرا دل دکھتا ہے کل تک جو لوگ مجھ سے بے تحاشہ پیار دکھارہے تھے آج میرے وجود سے گِھن کھا کر اپنے مہکتے ٹھنڈے محلوں میں بیٹھے ہیں ، جگہ جگہ سے سڑتا میرا وجود میری شخصیت کو گھنا رہا ہے ۔ میں اپنے خاندان کا سرپرست تو نہ مانا گیا کبھی ، لیکن میرے دم سے ہی میرے گھر کا چولہا جلتا ہے ۔ افسوس کروں یا خود آگے بڑھوں کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ خود بھی بڑھوں تو کیسے پچھلے آٹھ سال میں کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا میں کہ میں کس حال میں ہوں بس بوجھ بڑھاتے گئے آج اس نہج پر ہوں کہ جن کو میری ذمہ داری سونپی ان کو بھی بااختیار نہ کر پائے ۔ اسے میں اپنے بڑوں کا خوف سمجھوں یا پھر سوتیلا ہوں۔۔۔
میں منتظر ہوں اس وقت کا جب کوئی ہوائی وعدوں سے بڑھ کر میرے لئے کچھ کرے گا۔ میرے ہم جولیوں کی پرشکوہ ، ناامید نگاہیں متلاشی ہیں اس کرن کی جو اس نامیدی کے اندھیرے میں سے نکل کر ان کے گھروندے کو سنجونے کی آس پیدا کرے گی ۔
میں کراچی۔۔ جو کبھی پاکستان کی زینت تھا آج کوڑے کا ڈھیر بن گیا ہوں ۔ میں اس گھڑی کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں جب کوئی حق جتانے کے ساتھ فرض بھی ادا کرے گا ۔ میری بے قرار نگاہیں ،میری ٹوٹتی ، بکھرتی امید اب آپ پر ہے ۔آئیے اور میرے حالات سدھارلیجئے ۔۔ اس سے پہلے کہ میرے ہم جولی میرے شہری اس بے بسی کی بھینٹ چڑھ جائیں ۔ 

Monday, 4 September 2017

قطب الدین (افسانہ)

 قطب الدین ہمارے راستے سے ہٹ جائو، ورنہ ہم تمھیں بھی گولیوں سے چھلنی کر دیں گے۔
چار بندوق بردار جنہوں نے اپنے چہروں کو کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا ۔ ایک سولہ سترہ سالہ نوجوان کو اپنے سامنے سے ہٹنے کو کہہ رہے تھے۔ جس کا لباس بھی باقیوں جیسا تھا مگر اس کے ماتھے سے خون رِس رہا تھا اور جسم پر بم بندھا ہوا تھا۔ اس کے عقب میں ایک عمارت تھی جسے وہ تباہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر شاید قطب الدین ہاں وہ اس لڑکے کو اسی نام سے پکار رہے تھے وپ عین موقعے پر ان کا ساتھ دینے سے انکاری ہو رہا تھا۔
ان چار نقاب پوش دہشت گردوں میں سے ایک بڑھتا ہے اس نے مسلسل بندوق تانی ہوئی ہے۔ قطب الدین کے ماتھے پر پسینے کی لکیر بہہ کر رستے خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ جو شاید ان چاروں کی آپسی لڑائی کی وجہ سے لگنے والی چوٹ کا نتیجہ تھا۔
جیسے ہی وہ  لڑکا قریب آتا ہے قطب الدین ایک زوردار لات مارتا ہے کہ اس کی بندوق دور جا گرتی ہے۔
سب یہاں سے ہٹ جائو ورنہ میں کامی کو مار دوں گا۔قطب الین اس لڑکے کو گردن سے پکڑے کھڑا تھا ۔ باقی سب بھی گھبرائے ہوئے تھے اگر غلطی سے بم پھٹ گیا تو اپنے وعدے کے خلاف

Sunday, 3 September 2017

اکلوتی

بچپن میں اکثریہ خیال آتا تھاکہ کاش میں اکلوتی ہوتی تو ماں ،بابا کا سارا پیار صرف مجھے ملتا۔ لیکن بچپن کے دورکی خواہشیں بھی بڑی نادان ہوتی ہیں ۔ ہم کیا چاہتے ہیں تھوڑی دیر بعد ہمیں وہ ی چیز نہیں چاہئیے ہوتی ۔۔
بچپن اور بہنوں کا رشتہ بڑا دلچسپ تعلق ہے سارا بچپن لڑتے ہیں ، ہر چھوٹی بات پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی نہیں مانو دو ریسلر ایک دوسرے کے مدِ مقابل آگئے ہوں ۔ وقت گزرتا ہے آہستہ آہستہ سمجھ بوجھ بھی ساتھ آتی جاتی ہے ۔ ایک دوسرے کی اہمیت سمجھنا شروع کرتے ہیں ۔ گھر میں لڑائی ہو تو اوپر والا ہی بچائے لیکن اگر اسی بہن کو کوئی باہر والا کچھ کہہ دے تو اس کی خیر نہیں ۔ مجھے یاد نہیں لیکن بڑے بتاتے ہیں میں نے اپنی بہن کی پیدائش پر اس کو کسی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا تھا کیونکہ میری بہن جو تھی۔مگر جب ایک ہفتے بعد وہ نانی کے گھر سے ہمارے گھر آئی تو میں نے ہی اسے اُٹھا کر کمرے کے ڈسٹ بن میں ڈال دیا تھا ۔ ایسی ناجانے کتنی یادیں میری اور اس کی ہیں۔آپ کی بھی ہوں گی اس رشتے کی خاصیت ہی یہ ہے جہاں ایک طرف ہم اس سے چڑتے ہیں وہیں سب سے زیادہ پیار بھی کرتے ہیں ۔ دو بہنیں دنیا کی سب سے اچھی دوست بن سکتی ہیں ۔ساتھ رہنا، ساتھ کھانا ، ساتھ کھیلنا ، پڑھنا اور روزمرہ کے کام ساتھ کرنا ،ہمیں خیال ہی نہیں رہتا کہ کبھی الگ بھی ہوسکتے ہیں ۔ایسے میں سماج کے بنائے قانون جو دنیا میں رہنے کے لئے بنائے جاتے ہیں دل مانے نا مانے ماننے پڑتے ہیں۔ جی بلکل شادی کی بات کر رہی ہوں ۔ نرالا اصول نہیں ہے۔۔۔ ساری زندگی جس گھر میں گزاری وہ گھر وہ لوگ جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری چند لمحوں میں پرائے ہوگئے ۔ وہ بہن جس کے ساتھ زندگی شئیر کی تھی وہ چند لمحوں میں کسی اور کی ہوگئی اب وہ ملے گی تو لیکن ان مہمانوں کی طرح جو آتے ہیں ملتے ہیں پیار جتاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ یہ حق اس کو دیا بھی جائے کہ یہ اب بھی تمھارا گھر ہے تب بھی وہ بات نہیں رہتی نہ وہ پہلے جیسے حالات ہوتے ہیں ۔ اس کے جانے کا افسوس ہوتا ہے لیکن ساتھ دل کو یہ طمانیت ہوتی ہے کہ میری سہیلی جس کے ساتھ مل کر میں شرارتیں کرتی تھی ، میری سکھی ۔۔ جس کے ساتھ میں شرارتیں کرتی تھی ۔ میری ہم جولی جو میری نگاہوں میں چھپے درد کو بناء کہے سمجھ لیتی تھی میرے ساتھ نہ سہی کوئی بات نہیں لیکن جہاں ہے خوش ہے کوئی ہے اس کے ساتھ جو اس کا خیال رکھتا ہے ۔ اب وہ کسی اور کی آنکھوں میں چھپے درد کو دور کرنے کی سعی کرتی ہوگی ۔اب وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہے جو اس کا اس نئے سفر میں ہم سفر ہے ۔ ا س کے ساتھ جو نئے رشتے جڑے ہیں وہ ان کا خیال بھی رکھتی ہوگی اور وہ اس کا۔۔

اکثر سوچتی ہوں کاش میں بھی کبھی کچھ ایسا تحریر کرتی جہاں دو آنسو بہا کر مسکراتی اور خود سے کہتی کہ وہ خوش ہے نا تو تم بھی خوش ہوجاؤ ۔ مگر جب حالات ایسے نہ ہوں تو،بات اس کے برعکس ہوجائے تو ۔۔ ہاں مان لیجئے نوجوانی کی دہلیز اس کی زندگی کی آخری منزل ثابت ہوجائے
موت کا بے رحم فرشتہ اسے ہر خوشی ، ہر اپنے سے دور بہت دور لے جائے تو۔۔ خیر موت پر بھی کب کسی کا اختیار رہا ہے ۔لیکن تب تکلیف زیادہ ہوتی ہے جب جب کسی کی لاپرواہی آپ سے آپ کی قیمتی چیز چھین لے اور آپ بے بسی کی مورت بنے سب ہوتے دیکھتے رہیں۔ ۔ 
کیونکہ نا آپ اتنے بڑے ہیں کہ حالات کو سمجھ سکیں نا ہی کوئی فیصلہ لینے لائق ۔۔ تب بے بسی پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے جو تاعمر صرف زخم دیتی ہے ، ایسے زخم جن پر شاید کوئی مرہم اثر نہ کرسکے ۔ بس ایک کاش ہی رہ جاتا ہے ۔۔
آج بھی اس کی چھوئی ہوئی ہر چیز میں اس کا لمس موجود ہے ۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود ایک احساس ہے ایک قربت کا رشتہ ہے جو بظاہر نظر نہ آنے کے باوجود بھی جوڑے رکھے ہے ۔ بہنوں کا تعلق شاید ایسا ہی ہوتا ہے ۔مر کر بھی احساس جوڑے رکھتا ہے ۔آج سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ادھورا لگتا ہے جب اپنی الماری کھولتی ہوں جس کی ایک سائڈ تمھاری تھی آج وہ پوری میری ہے ، پہلے اپنی چیزیں دینا اچھا نہیں لگتا تھا آج کوئی کہنے والا ہی نہیں ہے میری شرٹ نہیں پہننا ،کوئی کہنے والا ہی نہیں کہ تم نے میری چاکلیٹ بھی کھا لی ۔۔۔ 
اب جب کچھ کہیں رکھتی ہوں وہیں سے مل جاتا ہے کوئی ہٹانے والا ہی نہیں ہے ۔۔ اب کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کی آرزوبھی نہیں ، کیونکہ کوئی نہیں کہتا مجھے بیٹھنا ہے تم ہٹو ۔۔ اب کوئی میرے لئے لڑنے والا نہیں کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو کچھ کہنے کی ۔۔ 
اب میرے پاس سب کچھ ہے لیکن شئیر کرنے کیلئے کوئی نہیں ۔۔۔
آج بھی ہمارے ٹینس کے ریکٹ ، ویڈیو گیم کے جوائے اِسٹک اور ناجانے کیا کیا سب ویسا ہی رکھا ہے ۔جیسے یہ سب بھی کہیں نہ کہیں منتظر ہیں اس بات کے تم آؤ گی ہم ساتھ میں کھیلیں گے ۔۔۔
اب مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا یہ کہنا کہ میں اکلوتی ہوں ۔۔ نہیں نہیں تم ہو نا میرے آس پاس کہیں ۔۔