Thursday, 7 September 2017

میں تعفن زدہ ۔۔ میری فریاد سنو!


میں مجبور و بے کس ، بے یارو مددگار ، توجہ کا طالب ۔۔ منتظر ہوں اس بات کا جب کوئی یہ مان لے کہ میں اس کی ذمہ داری ہوں ۔ میرے ہر گوشے سے اب ناگوار بو اُٹھنے لگی ہے ۔ میرے ساتھ لوگ رہنے پر مجبور ہیں کہ کہیں جا نہیں سکتے اس لئے ناگواری کا احساس مجھ سے منہ موڑے اپنے چہرے پر کپڑا ڈھانپ کر کراتے ہیں ۔میرا دل دکھتا ہے کل تک جو لوگ مجھ سے بے تحاشہ پیار دکھارہے تھے آج میرے وجود سے گِھن کھا کر اپنے مہکتے ٹھنڈے محلوں میں بیٹھے ہیں ، جگہ جگہ سے سڑتا میرا وجود میری شخصیت کو گھنا رہا ہے ۔ میں اپنے خاندان کا سرپرست تو نہ مانا گیا کبھی ، لیکن میرے دم سے ہی میرے گھر کا چولہا جلتا ہے ۔ افسوس کروں یا خود آگے بڑھوں کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ خود بھی بڑھوں تو کیسے پچھلے آٹھ سال میں کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا میں کہ میں کس حال میں ہوں بس بوجھ بڑھاتے گئے آج اس نہج پر ہوں کہ جن کو میری ذمہ داری سونپی ان کو بھی بااختیار نہ کر پائے ۔ اسے میں اپنے بڑوں کا خوف سمجھوں یا پھر سوتیلا ہوں۔۔۔
میں منتظر ہوں اس وقت کا جب کوئی ہوائی وعدوں سے بڑھ کر میرے لئے کچھ کرے گا۔ میرے ہم جولیوں کی پرشکوہ ، ناامید نگاہیں متلاشی ہیں اس کرن کی جو اس نامیدی کے اندھیرے میں سے نکل کر ان کے گھروندے کو سنجونے کی آس پیدا کرے گی ۔
میں کراچی۔۔ جو کبھی پاکستان کی زینت تھا آج کوڑے کا ڈھیر بن گیا ہوں ۔ میں اس گھڑی کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں جب کوئی حق جتانے کے ساتھ فرض بھی ادا کرے گا ۔ میری بے قرار نگاہیں ،میری ٹوٹتی ، بکھرتی امید اب آپ پر ہے ۔آئیے اور میرے حالات سدھارلیجئے ۔۔ اس سے پہلے کہ میرے ہم جولی میرے شہری اس بے بسی کی بھینٹ چڑھ جائیں ۔ 

No comments:

Post a Comment