یہ شام ڈھل جائے گی یہ وقت بھی بیت جائے گا۔ 2016 کا آخری سورج بھی اپنا جلال دکھا کر بلآخر کہیں دور جاکر سوگیا ہے۔ یہ کاسنی آسماں اب رات کی کالی چادر اوڑھے سردی میں معصومیت سے کھڑا سب کو تک رہا ہے ۔ دور دھماکوں کی گونج ہے ۔ مگر کیوں ابھی تو نیا سال آنا باقی ہے۔۔ مگر اس لرزتی فضاء میں خون کی بو بھی شامل ہے ۔سیریا،فلسطین،شام سے رونے کی آوازیں بھی اب معدوم ہوتی جا رہی ہیں کیا وہ بھی نئے سال کی خوشی منا رہے ہیں۔۔ نہیں وہاں اب انسان ہی نہیں بچے تو آوازیں کیونکر آسکتی ہیں۔اس ٹھٹرتی سردی میں رات کی کالی چادر اوڑھے یہ آسماں زمیں پہ پھیلتے رنگوں کو دیکھ حیراں ہے۔
ایک طرف زمیں سے کالا دھواں اُٹھتا ہے تو دوسری طرف رنگوں کا حسین امتزاج لئے یہ دھواں ہوا میں اوپر کی جانب لپکتا ہےگویا کوئی چھوٹا بچہ اپنی من پسند شئے دیکھ کر اچھل رہا ہواور پھر آسماں میں بکھرتے رنگ مانو اس بچے کی حسین مسکان جس نے اپنی خواہش کو پالیا ہو۔
سال کے 12 مہینے، 365 دن، ہر دن ایک نئی آس لایا اور پھر آدھی ادھوری ،کبی مکمل۔۔ ہاں کبھی مکمل کرکے چلا گیا۔ وقت کا پہیہ اپنی ہی رفتار سے چلتا رہا لیکن حالات نے کہا ارے یہ وقت تو تھم گیا توکوئی دمکتا چہرہ گویا ہوا ارے یہ وقت بڑا بے رحم ہے جلدی گزر گیا۔ لیکن وقت کا صبر دیکھئے بس مسکرا دیا۔ کہتے ہیں اگر غؐ نہ ملے تو خوشی کیا ہوتی ہے حضرتِ انسان کی ناقص عقل کبھی سمجھ نہ پاتی۔2016 ہو یا کلینڈر پر سجا کوئی اور ہندسہ پاکستانی سیاسی اکھاڑے باروں مہینے اپنی رونقیں بحال رکھتے ہیں یہاں کے سیاست دانوں کی خاصیت ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے ضرور رہتے ہیں فارغ نہیں بیٹھتے۔ کبھی دوسری شادی تو کبھی طلاق دے دیتے ہیں،،کچھ برگ سیاست دان اپنی نواسی کی شادی پر اتنا خرچی کرتے ہیں کے دنیا کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، کبھی اچانک دور پرے سے ایک حضرت آتے ہیں اور ایک دشمنِ خاص و عام پر الزامات لگا کر ہیرو بن جاتے ہیں مگر افسوس کھوکلے بیانات کے سِوا کچھ نہ کر پائے، تو کبھی کوئی اپنے ملک سے غصہ اس کو مردہ باد کہہ کر نکالتے ہیںایک کو سزا ملتی دوسرے کو معافی۔۔۔ ایک جناب ساری لوٹ کھسوٹ کرنے کے بعد پوٹلی سنبھال بھاگ جاتے ہے دیارِ غیر میں پناہ کو، ولاہ حضرت کی واپسی کیا شان سے آئے۔۔۔خامش رہیئے انصاف کے دیوتا کو سلایا ہوا ہے اٹح گئے تو رولا پائیں گے۔
برابری- انصاف- عدل ، انسانی حقوق کی بنیاد ٹھرے۔۔۔ ارے ایسے حقوق کو آگ لگے جو کسی زندگی کو روندتا ہوا ملے۔
ہمیں حق چاہیئے ، ہمارے مسلک سے اس کی باتیں میل نہیں کھاتیں مار دو اسے یہ انصاف ہے ہمارا۔لیجیئے ایک گھر کا چشم و چراغ گل سارا ملک سوگوار، کیمرے کی آنکھ کے سامنے دو آنسو گرائے لیجئے ہوگیا ہم نے بھی اپنی سوگواری کا حق ادا کردیا۔ 11 سال کے معصوم بچے کو باپ کا جاں نشیں منتخب کرکے ننھے کندھوں کو ذمہ داری کے بوجھ تلے روندھ کر ہم نے بھی انصاف کردیا۔
کہیں دور سے صدا آتی ہے قاتل ہے قاتل۔۔۔ اس نے انسانوں کو زندہ جلا دیا اس کو سزا ملنی چاہیئے۔ سارے فیصلے خود ہی کرنے تھے تو یہ عدالتوں کی نمائش کیسی؟غریب ملک کا لاوارث شہر کراچی پسانِ حآل کوئی نہیں کچاے کے ڈھیر، تعفن زدہ شہر میں مقیم لوگوں کو مئیر ایسا ملا جو مدتِ اقتدار شروع ہونے سے قبل بھی پابندِ سلاسل رہا جس نے اپنی جیت کے رنگ بھی قید خآنے کی بے رنگ چار دیواری کے بیچ دیکھے۔
پانامہ پانامہ ۔۔۔ یہ کیسا شور ہے اوہو۔۔ پھر کسی پر الزام ہے اس نے ملک کی دولت لوٹی ہے۔ ارے یہ کیا اتنی بوکھلاہٹ گویا چور کی داڑھی میں تنکا پر عدالتوں میں اب بھی خاموشی ہے قانون مجبور ہے ثبوت کے ہاتھوں، یہ چالاک مجرم ہیں ثبوت کیا ہوتا ہے کون لائے گا۔۔۔
دھڑام۔۔۔ دھم۔۔۔ دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا ہے۔۔ انسانی چیخیں ، گوشت جلنے کی بو ۔۔۔۔ یا خدا رحم کر یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔ پاکستان کی اپنی ائیر لائن کا ایک ہوائی جہاز گر کے تباہ ہوگیا ہے، اس میں سوار اپنے سفرِ آخرت کی جانب گامزن تھے مگر بے خبر تھے۔144 لوگ ایک ادارے کی غلطی کی بدولت اس جہآن سے رخصت ہوگئے۔بس 144 گھر بکھر گئے ، بس 144 امیدیں دم توڑ گئیں ، بس 144۔۔۔ اور بدلا ایک استعفی ۔۔۔ ارے بھئی ہوگئی غلطی اب کیا 144 لوگوں کیلئے جان ہی لے لو گے۔۔۔ بس 144 لوگ۔۔۔
عجیب شاخسانہ ہے میرے لوگوں کا ہر چیز کو تہوار کی طرح مناتے ہیں ، کوئی مر گیا انہیں باتیں کرنے کا موقع مل گیا، کسی کیلئے غازی قاتل تھا تو کسی نے اسے سچا ملسماں جانا، جنید جمشید، کسی نے گستاخِ نبی مانا تو ایک جمِ غفیر نے آخری رسومات اس شان سے ادا کیں کے سارے ناقدین کی زبانیں سِل دیں۔
بس ہندسہ بدلنے کو ہےحالات نہیں۔ ہاں شاید صحیح بھی تو ہے لوگ وہی ہیں سوچ وہی ہے پھر کیونکر کچھ بدل پائے گا۔
اب ازطراب کا عالم زیست میں بدلنے لگا ہےلگتا ہے اب وہی کچھ کر سکتے ہیں جن باباؤں اور باجیوں کا زکر بڑے ہی نازیبا اشتہارات کے درمیاں موجود ہوتا ہے۔اب ان سے ہی امید لگانی پڑے گی کے اب آپ لوگ ہی اپنا کالا جادو چلائیں اور لوگ بدل دیں ان کے دل بدل دیں ، سوچ بدل دیں پھر ہی شاید حالات بدلنے کی امید ہو بھی کوئی آس بندھے کہ شاید 2017 شادباد ہوگا۔
ناامیدیوں سے پَرے ایک انسان کبھی امید نہیں ہارتا ۔۔۔ بس دعا ہے یہی باخیر راغلے 2017، خوشیاں لانا بس خوشیاں
No comments:
Post a Comment