سالگرہ کی تقریب ہورہی ہے ۔فاطمہ کیک کاٹنے والی ہے مگر یہ کیا موم بتی جلتے ہی فاطمہ پیچھے ہٹ جاتی ہے وہ بری طرح کانپ رہی ہے مانو کوئی پتہ تیز ہوا کے جھونکے سے تھر تھر ہلتا ہو۔۔۔
جبران: کیا بات ہے بیٹا ٹھیک ہو تم۔۔۔
فاطمہ کچھ بولنے لائق حالت میں نہیں ہے ۔ ڈاکٹر ڈاکٹر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ فاطمہ اپنے کمرے میں لیٹی ہے اس کی ماں پاس کھڑی ہیں اس کا بھائی اس کے سرہانے بیٹھا ہے۔ فاطمہ بخار میں تپ رہی ہے۔
ثانیہ بیگم: ڈاکٹر اسے اچانک کیا ہوا ہے صبح تک تو ٹھیک تھی۔
ڈاکٹر: ابھی کچھ کہ نہیں سکتے ، میں نے دوائی دے دی ہے صبح تک بخار اتر جائے گا۔۔
فاطمہ: پاپا آج پھر میری وجہ سے سب جل جاتا ۔۔ وہ آگ آ آ آگ ۔۔
فاطمہ نیم بے ہوشی کی حالت میں یہ کیا کہہ رہی تھی کیسی آگ ۔۔۔ اور کیا ہوا تھا س کے ماضی میں جس کی وجہ سے فاطمہ کی یہ حالت ہے۔۔۔
جاننے کیلئے پڑھئے ناول
"میرا قصور ۔۔ محبت"
No comments:
Post a Comment