کون ہو تم ۔۔۔ بڑا عام سا سوال ہے کوئی بھی شخص کسی سے بھی کرسکتا ہے یہ جاننے کیلئے کے جس سے وہ مل رہا ہے وہ کون ہے۔ مگر کبھی سوچا ہے اگر اسی سوال کی بنیاد پر اربوں کا سودا ہو لوگ اپنی سیاست چمکانے لگیں۔۔ یہ بات سوچنے میں تھوڑی عجیب معلوم ہورہی ہے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
بچپن سے ایک سوال جس نے آج اس طرح قلم اٹھانے پر مجبور کیا وہ تھا تم کون ہو؟ بچپن میں تو اس عام سے سوال کا جواب بھی عام سا تھا کہ میں پاکستانی ہوں پھر جواب آتا کہ وہ تو ہم سب ہیں تمھارے گھر میں زبان کون سی بولی جاتی ہے۔جواب ہوتا اردو۔ بات یہیں ختم ہوجاتی تو کیا کمال تھا مگر سامنے سے آنے والا جواب ایسا تھا کہ روح کو ہلا دیتا تھا ، "اچھا تو تم مہاجر ہو"۔
بچپن اسی اُدھیڑ بن میں گزر گیا کہ آخر یہ مہاجر کون ہوتے ہیں اور میں پاکستان میں رہ کر مہاجر کیسے ہوں؟ گزرتی عمر کے ساتھ اس سوال نے بھی کئی زاویے دکھائے کچھ باتیں سمجھ آئیں اور کچھ پر اب تک سوالیہ نشان ثبت ہے۔
کسی نے کہا مہاجر کہلوانا تو فخر کی بات ہے کیونکہ آقائے دو جہاں ﷺ نے بھی اپنے ساتھی صحابہ کے ہمراہ ہجرت فرمائی تھی مکہ سے مدینہ اور وہ بھی مہاجر کہلوائے ۔ یہ سننا تھا کتابوں کی ورق گردانی شروع کی ماسوائے اس بات کہ اور کچھ نہ ملا کہ ہجرت کے بعد سب مہاجرین صرف کتابوں کی حد تک مہاجر کہلائے کیونکہ حضورؐ نے انثار اور مدینہ سے ہجرت کرنے والوں کو آپس میں بھائی کے رشتے میں جوڑدیا پھر کہاں کے مہاجرین۔۔۔
آگے بڑھنے سے پہلے لفظ مہاجر کو سمجھ لیتے ہیں اس کے معنی کیا ہیں تو مہاجر لفظ ہجرت سے ماخوز ہے جس کے معنی وہ شخص جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے۔ اصطلاح میں اس کے معنی اس طرح استعمال ہوتے ہیں کہ وہ شخص
جو ایک ملک چھوڑ کر دوسرے ملک کی سکونت اختیار کر لے۔
پاکستان میں کتنے سالوں سے افغانستان سے لوگ سرحد پار چلے آتے ہیں اور پاکستان انہیں پناہ دیتا ہے وہ مہاجرین ہیں۔
بنگلہ دیش بننے کے بعد آج بھی بنگالی یہاں موجود ہیں جو خود کوفخرسے بنگالی بھی کہتے ہیں وہ بنگالی مہاجرین ہیں۔
تقسیمِ برِصغیر کے بعد مختلف علاقوں سے آکر پاکستان میں بسنے والوں کو جہاں دوسری مشکلات کا سامنا تھا وہاں انہیں بہت سی جگہوں پر لعن طعن، غصے اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ایسا کرنے والے بھی بد قسمتی سے ان کے اپنے ہی تھے مگر فرق اتنا تھا یہ اپنے اس ملک میں پہلے سے بس رہے تھے اور یہ دور کی مسافت طے کرکے اپنوں کے ساتھ بسنے اآئے تھے۔مگر کہتے ہیں اگر آپ آپس میں لڑ پڑیں تو کوئی تیسرا ہمیشہ اس بات کا فائدہ اٹھاتا ہے۔پاکستان میں کچھ لوگوں نے ان کے اس جھگڑے میں پیسہ دیکھا انہوں نے اس بات کا فائدہ یہ اٹھایا سب کی پہچان چھین لی اور کیا خؤب چال چلی کہ سب خود سے خود کو مہاجر کہلوانے لگے۔
دلیل یہ دی کہ دوسروں نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہمٰں تِلیاں، مٹرو، مہاجر کہا ہم تو پاکستانی تھے مگر آپ نے کہا تو آج سے ہم مہاجر ہی سہی ہم اسی پہچان کو لے کر اسمبلیوں اور ایوانوں میں جائیں گے۔تو جناب ہوش کے ناخن لیں۔ آپ کو حقوق کیلئے لڑنا تھا اس بات کو دلیل بنانا تھا کہ ہم اردو بولنے والے پاکستانی ہیں جس طرح پاکستان میں سب اپنی الگ الگ ثقافت ، زبان کی پہچان کے ساتھ پاکستانی ہیں ۔سندھی بولنے والے سندھی ، پنجابی بولنے والے پنجابی، بلوچی بولنے والے بلوچ اور پشتو بولنے والے پختوں ہیں تو آپ اردو بولنے والے مہاجر کیوں؟
تقسیمِ برِصغیر،ہجرت کا مقصد،پاکستان کا مقصد۔۔۔ مسلامنوں کی الگ جداگانہ پہچان تھی۔ وہ لوگ جو ہجرت کرکے آئے ہندوؤں سے الگ اپنی ایک پہچان ایک شناخت چاہتے تھے ۔وہ آزادی سے اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق گزارسکیں۔جہاں ان کی پہچان پاکستانی کی حیثیت سے ہوتی مہاجر کی حیثیت سے نہیں جو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔
ایک سوال قارئین سے اپنے آباؤاجداد کی بے پناہ قربانیوں کاسِلا ہم خود کو "مہاجر" کہلوا کر دے رہے ہیں۔کیا ہم بانیان پاکستان کے ساتھ ، اپنے ساتھ ، اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ صحیح کر رہے ہیں؟ ان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
No comments:
Post a Comment