Monday, 12 March 2018

کوئی تو درد کی دوا ہو۔۔

برما، شام، فلسطین، عراق۔۔۔ کتنے نام لوں کس کس درد کا حساب مانگوں ۔۔۔ کون دے گا حساب آپ ، میں ۔۔ یا وہ جن کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں ۔۔ شاید ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ہاں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہوا کرتا ہے ۔
ساری دنیا خآموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ہر گزرتا پل بس بڑھتی ہوئی تباہی کے سواکچھ نہیں ۔ دنیا بھر کا میڈیا، سچائی کے عکمبردار صحافی حضرات، ہماری موم بتی مافیا سب خاموش ہیں کیوں ۔۔ کیا ان مرنے والوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ۔۔ کیا انسانیت کا یہی شیوہ ہے یا ہم سب واقعی اتنے کمزور ہیں کہ سوائے چپ چاپ دیکھنے کہ اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ کچھ دن پہلے دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس میں ایک سیرین بچی مدد کو پکارتی رہی دوسری طرف ایک سیرین بچے کا آپریشن دکھایا جہاں اسپتال میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی اس کا آپریشن پورے ہوش و ہواس میں کیا گیا ۔۔۔ اس کے درد کی دوا ربِ کائنات کا کلام پاک تھا جس کا درد اس کی زبان پر جاری رہا ۔۔۔
بڑی بے دردی سے خون میں لتھڑے انسانی جسم ، خون میں نہائے انسانی اعضاء کی تصاویر تو ایسے شئیر کرتے ہیں گویا جہاد کر رہے ہیں اور ابھی بس سب فتح کرکے مظلومین کو انصاف دلائیں گے ۔احساس کیا ہوتا ہے شاید جانتے ہی نہیں بس ایک مشین بن گئے ہیں جو سیزن کے حساب سے چلتی ہے ابھی کرکٹ لیگ چل رہی ہے تو پھر اس کے بعد کچھ اور ہوگا اس دوران کچھ وقت پہلے کی بات یاد کسے رہے گی ۔ 
حکومت سے کیا شکوہ کروں وہ تو ایسے بے حس بھیڑیوں کا ہجوم ہے جو بس عوام کو نوچ نوچ کے اپنی قندیلیں بھر رہا ہے اس کی ہوس پوری ہی نہیں ہوتی ۔لیکن شکوہ بھی کروں تو کس زباں سے ان کو اپنے سر پر مسلط بھی تو کرنے والی میں ہوں۔۔۔ آپ ہیں ۔۔ہم سب ہیں ۔۔ سب جانتے ہوئے بھی ووٹ صرف ہمارے زبان والے کو ہی جاتا ہے کیوں ۔۔ 
شاید جس دن ہم اس کیوں کا جوا ب ڈھونڈ پائے تو پکستان اپنا وہ کھویا ہوا وقار پالے گا کہ جب ایران اور ترکی کو ضرورت تھی تو ہمارے جنگی جہاز ان کی فضائوں میں اس غرور کے ساتھ پرواز کر رہے تھے گویا کہتے ہوں آئو کس مائی کے لعل میں ہمت ہے ہم کھڑے ہیں اپنی زمیں کے سپوت جو اسلام کیلئے وجود میں آئی اور آج اسلام کی بقاء و سلامتی کیلئے سینہ 
سپر کھڑے ہیں۔ 
  ہم تو وہخوش نصیب لوگ ہیں جن کی چشمِ بصارت بھی ہے ، قوتِ گویائی بھی جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکتی ہے 
اور سماعتیں بھی جو چیخ و پکار ملسلسل سن رہی ہے مگر ہم اندھے ، گونگے ، بھرے بنے بیٹھے ہیں ۔ اگر پوری یکسوئی کے ساتھ اس مسئلے پر ڈٹ جائیں تو کسی کافر کی مجال وہ ایسا کوئی گھنائونا خوب بھی دیکھ سکے ۔ کبھی بیت المقدس ، کبھی برما ، کبھی فلسطین ، شام اور عراق۔۔۔ کفار مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کر رہے ہیںاور ہم ۔۔ ہم بس دیکھ رہے ہیں ۔کیونکہ ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وقتی جوش چڑھتا ہے سیاسی رہنما اپنے پریوکاروں کو جمع کرتے ہیں جوشیلی تقریریں ہوتی ہیں تصوریرں لی جاتی ہیں ، میڈٰیا کی زینت بنتی ہے واہ واہی اور  شہرت سمیٹ عام زندگیوں میں لوٹ جاتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کتہی احتجاج نہ کریں کریں لیکن ایک دفعہ کہہ کر اتنا لمبا توقف کیوں اپنی بات پر ڈٹ جائیے ۔انسانیت کے علمبرداروں سے حساب مانگئے ان  طاقت کے دیوتائوں سے حساب مانگئے جو پس پردہ اس سب میں ان ظالموں کے ساتھی ہیں ۔
کیا بحیثیت مسلمان ہماری اتنی ذمہ داری ہے کہ ہم نماز ، روزہ رکھیں ۔۔ بس ! کیا یہ مظلوم مسلامن ہماری ذمہ داری نہیں ۔ کیا جواب دیں گے ہم روزِ محشر ۔۔ یہی کہ ہمیں سب پتہ تھا لیکن ہم کر بھی کیا سکتے تھے ۔ 
ایک شکوہ سب کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایکا نہیں ہے، کبھی سوچا کیوں نہیں ہے۔ رنگ ، نسل، زبان ۔۔ نہیں یہ تفریق تو اسلام نے چعدہ سو سال پہلے ہی ختم کردی لیکن پھر۔۔ ہآں پھر آتے ہیں مسلک، جی مسلمانوں کے فرقے۔ پھر نکلتے ہیں فتوے پر مسلمان مسلمان کو کافر قرار دیتا ہو پایا جاتا ہے ۔ وہ تو ایک غیر مذہب ہی ہے جو ہمیں مسلمان جانتا ہے ورنہ ہم مسلمان بعد میں کسی مسلک کے اور پیر کے جدی پشتی مرید پہلے ہیں اور احترام۔۔ وہ کیا ہوتا ہے وہ تو ہم جانتے ہی نہیں ۔ ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام یہ ہم سے نہیں ہوگا ۔
سرورِ کونین ﷺ نے اتنے سال پہلے غیر مسلم کے عقیدے کا احترام کرنا سکھایا تھا کہ نہ پم انہیں برا کہیں گے اور تب تک ان سے کچھ نہیں لڑیں گے جب تک وہ ایسا کچھ نہ کریں ۔ یہاں تو ہم آپس میں فساد پیلانے سے بعض نہیں آرہے۔
ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ۔۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے کی سوچ ایک مسلمان کی نہیں ہونی چاہئیے ۔ کیونکہ یاد رکھئیے قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے ، چھوٹی چھوٹی ابابیل نے ابراہم لنکن کی عضیم الشان فوج کو عبرت ناک شکست دی تھی پھر تین سو تیرہ کا لشکر دس ہزار کفار پر بھاری پڑا تھا ہم انہی میں سے ہیں کوشش چھوٹی کیوں نہ ہو مسلسل ہونی چاہئیے پھر انتھک محنت ایک دن رنگ ضرور لاتی ہے ۔ کیونکہ مسلمانوں کا تو حامہ و ناصر ہمیشہ سے ربِ کریم رہا ہے۔ 
ربِ کائنات ہم سے راضی ہوں،ہمیں وہ یکجہتی اور طاقت دے کہ مسلمان اپنا وقار اس دنیا میں دوبارہ قائم کر سکیں۔ آمین 

No comments:

Post a Comment