Thursday, 25 January 2018

دھرا معیار۔۔ جمہوریت کی تذلیل



قانون قانون قانون۔۔۔ کس چڑیا کا نام ہے۔۔ یہ تو ایک کٹ پُتلی ہے جس کی ڈوریں ہاتھ میں تھامے پوری تنظیم اپنے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ میں سمجھ نہیں پارہی ہوں جب قانون کی پاسداری نہیں کرنی تھی تو اس کو بنایا کیوں ۔۔ ہاں شاید لوگوں کو دکھانے کیلئے کہ ہم کس قدر جمہوریت کے قائل ہیں ۔ ایسے جمہوری ادارے پنپنے نہیں چاہئیے لیکن برائی کی عمر لمبی ہوتی ہے ۔ کسی ادارے یا تنظیم میں انتخابات ہونا جمہوریت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے ۔ یعنی اس تنظیم کے عام اراکین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے من پسند لوگوں کو منتخب کریں ۔ لیکن اس تنظیم کا کیا جو اپنے ہی قانون سے انکاری ہو۔۔ 
جی ہاں بات ہورہی ہے یوتھ پارلیمینٹ پاکستان کی جہاں اس وقت کی سندھ کابینہ کے وائس پریزیڈینٹ دانیال گھانچی جس کو ایک شوکاز نوٹس جاری ہوا26 مئی 2016کو  جس کے مطابق وہ سات یوم کیلئے یوتھ پارلیمینٹ کے کسی بھی ایونٹ میں نہ شریک ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنا عہدہ استعمال کر نے کا اہل رہا ، 27مئی 2016سے 2 جون 2016 تک ممبر شپ ٹرمینیٹ کر دی گئی تھی ۔ 
 ان کی ویب سائٹ پر موجود قانون کے مطابق ایسا کوئی شخص کسی بھی صوبائی کابینہ کا الیکشن نہیں لڑ سکتا جس کو ماضی میں کبھی بھی ایک بار بھی شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہو ادارے کی طرف سے ۔ اور یہ اصولوں کی بات کرتے ہیں ۔۔ ایسے اشخاص کو ناصرف انتخابات کیلئے نامزد کیا بلکہ یہ بتانے پر کہ آپ کیسے نامزد کرسکتے ہیں تو یہ کہہ دیا گیا کہ وہ الگ قانون تھا یہ الگ قانون ہے وہ اب نہیں یہ تب نہیں تھا ۔ کیسا بدھا مذاق ہے کیونکہ ان کے اپنے قانون کے ممبرشپ اینڈ ٹرمینینشن کی شق ڈی کے مطابق جب ممبرشپ سے کسی ممبر کو ٹرمینیٹ کردیا جائے تو اس کی ممبر شپ دوبارہ بحال نہیں ہوسکتی ۔ پھر ایلکشن کی شق جی کے مطابق کسی کو دو شو کاز نوٹس یا ایک دفعہ بھی ، یا آرگنائزیشن سے نکالا گیا ہو یا کچھ وقت کیلئے بھی ماضی میں کبھی بھی ۔۔ میں اپنی بات دھراتی ہوں ماضی میں کبھی بھی تو وہ صوبائی کابینہ کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ لیکن ناصرف دانیال گھانچی بلکہ سعدیہ طارق عثمانی جن کو ایک اور دو بار بترتیب شو کاز نوٹس جاری ہوچکے ہیں ۔ دونوں نے اپنے اپنے کاغزاتِ نامزدگی جمع کروائے بلکہ نامزد بھی ہوئے ، اب بات ہورہی ہے اویس ربانی کی جنہوں نے اپنی سیٹ پربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جن کا ماضی بھی شفاف تھا اور حال بھی لیکن ان پر ایک ایسا الزام لگایا جسے ثابت کرنے سے قاصر ہے ادارہ۔ الزام دُھراتی ہوں جبکہ اس موضوع پر میں اپنے پچھلے آرٹیکل میں تفصیلی بات کر چکی ہوں مگر صرف یاداشت کیلئے زکر کرتی چلوں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ کوئی ایسی آرگنائزیشن چلارہے ہیں یا اس کا حصہ ہیں جو یوتھ پارلیمینٹ کے خلاف کام کرہی ہے ۔ لیکن اس الزام کا کوئی ثبوت نہیں ۔
مگرکہتے ہیں نا چاند پرمٹی ڈالنے سے چاند کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ مٹی ڈالنے والے پر ہی آگرتی ہے۔ اویس ربانی پر لگا الزام اس محاورے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایک غلط فہمی لوگوں کو ہوگئی اسے بھی آج دور کرتی چلوں ویسے تو پہلے بھی تزکرہ کیا ہے بیشتر جگہوں پر آج تفصیلی بات کر لیتے ہیں ۔ بار بار ایک الزام اور آتا ہے کہ شاید جو لوگ بھی اویس کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ سب ان کے کہنے یا ان کی منشاء کے مطابق ہورہا ہے۔یقین جانئیے غصہ کم اور ہنسی زیادہ آتی ہے ناجانے یہ ان کی کم عقلی ہے یا نا سمجھی یا پھر حق کہنے والوں سے لوگ یونہی ڈرا کرتے ہیں اس لئے بناء سرپیر کی بہتان بازی کرنے لگتے ہیں ۔ آپ لوگوں کیلئے بتادوں کہ ہر کسی کا ضمیر مردہ نہیں ہے ہم زندہ ہیں ۔۔ ہم سچ کہنے اور باطل کے خلاف کھڑے ہونا جانتے ہیں ۔ اگر حقیقت کا علم ہوجائے تو جو لوگ شور مچاتے پھرتے ہیں اپنے منہ مٹی میں دے بیٹھیں گے ۔ اویس ربانی جیسا اعلیٰ ظرف انسان میں نے نہیں دیکھا جو بڑے بڑے معاملات میں اتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں میرا رب بہت بڑا ہے میں نے انصاف اس پر چھوڑ دیا ۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ  یوں اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتا کہ جسے اپنے اوپر ہونے والے ظلم سے زیادہ اس بات کی پرواہ ہے کہ اسے جناح کا پاکستان بنانا ہے اور اچھا کام کرنے والوں کو ایسی سزائیں ہر ظالم صاحبِ اقتدار ی جانب سے بھگتنی پڑتی ہیں۔یہ بھی کررہے ہیں لیکن یوم الفرقان بھی ۔۔۔ایک دن ہوگا ۔۔ تب ان پر یہ لگا الزام بھی ہٹے گا اور سب دیکھیں گے حق کیسے فتح یاب ہوا، 
قانون اندھا ہوتا ہے وہ اپنے پرائے کے فرق سے آشنا نہیں ہوتالیکن یہاں تو دُھرا معیار ہے۔ جہآں قانون سے کھیلا جارہاہے ۔ جھوٹے الزام لگا کر ایک باعزت شخص پر انگلی اُٹھائی جارہی ہے ۔
میں کوئی بات بناء ثبوت کہ نہیں کہہ رہی ہوں ، آپ کی تصدیق کیلئے میں یہاں وہ اسکرین شاٹ شئیر کر رہی ہوں۔ ملاحضہ کیجئے اور خود ہی فیصلہ کیجئے۔ 



No comments:

Post a Comment