Thursday, 29 March 2018

تبصرہ -- ابنارمل کی ڈائری سے

درد  درد ہوتا ہے یہ میرا یا تمھارا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمارا ہوتا ہے۔ چوہدری صاحب آپ نے بلکل ابتدائ میں ہی یہ کہا کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کیوں۔۔ تو اس کا جواب تو آپ اس سے پہلی والی چند سطور میں ہی دے چکے ہیں ۔ آج کی اس بھاگتی دنیا میں جہاں بعض اوقات ہم اپنے درد کو نظر انداز کر جاتے وہاں آپ نے دوسرے کے درد کی اصطلاح کو ہی ختم کر دیا اور ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی ہمارا۔۔ شاید اس سے بہتر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
اس کتاب میں ایک شخص کے قصے کو کتابی شکل دی گئی ہے جو ناجانے کتنے لوگوں کیلئے مشعلِ راہ ہوسکتا ہے کیونکہ مجھے جو درد ملا ہے اسے میں دوسروں تک پہنچائوں گا کا چلن معاشرے میں عام ہوچکا ہے۔لیکن یہ سوچ بیدار کرنا جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو جو درد مجھے سہنا پڑا وہ کسی اور کو نہ سہنا پڑے جیسے عضیم جزبوں کا پرچار کیا گیا ہے جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ 
انتساب میں ایک نہایت ہی خوبصورت تھی اس کتاب کو نبی ﷺ کے نام منسوب کیا گیا ، چند سطور واقعی کمال تھیں کہ اگر چودہ سو سال پہلے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری نہ ہوتی تو ہم راہِ راست سے مشتشنہ کہیں اندھیروں میں بھٹکے ہوئے ابنارمل ہی تو ہوتے ۔ 
جو قارئین میری تحریر اس وقت پڑھ رہے ہیں یقین جانیئے یہ میرے خیالات ہیں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جو برجستہ ہیں کوئی گھنٹوں کا سوچ بچار نہیں میری باتوں کی تصدیق آپ کتاب کو پڑھ کر کرسکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment