Sunday, 21 January 2018

نا انصافی کیوں ۔۔

  ہاں آج مجھے یہ احساس شدت سے ہورہاہے کہ کیا واقعی میرے لب آزاد ہیں ۔۔ اگر ہیں تو کیوں میں اب تک خاموش رہی ۔۔ ظلم کے خلاف آواز نہ اُٹھانے والا بھی ظالم کا ساتھی ہوتا ہے۔ مجھ سے ایک سوال کافی لوگوں نے کیا اور مسلسل کر رہے ہیں کہ میں نے یوتھ پارلیمینٹ سے استعفٰی کیوں دیا بہت سے لوگوں کو بتایا بھی کافی سارے لوگوں کو بتانے سے قاصر رہی اس لئے سوچا اس پلیٹ فارم سے وہ سب کہہ دوں جو میں نے اتنے دن دیکھا ، برداشت کیا اور کہتے ہیں جب درد انتہا کو پہنچے تو تو نتیجے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ میرا استعفٰی کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا کیونکہ میں کوئی یہ فیصلہ میں بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے۔ جس آرگنائزیشن کو میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال دئے ان کے ناروا سلوک نے مجھے بہت چوٹ پہنچائی ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں سماجی کارکن کیا ہوتا ہے۔۔۔ ایک ایسا رکن ایک ایسا فرد جو کسی بھی بدلے سے مبراح سماج اورا س کے لوگؤں کی فلاح کیلئے کام کرتا ہے ۔ اسے اس بات سے سروکار نہیں ہوتا کہ اس سے اس سب کے بدلے کیا مل رہا ہے بلکہ وہ اپنا پیسہ ، وقت، اپنی تمام تر توانئیاں خرچ کرتا ہے ۔ ایک سماجی رکن جب کسی تنظیم کے ساتھ جڑتا ہے تو اسے یہ امید ہوتی ہے کہ یہ اس کے خیالات کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کو ایک پلیٹ فارم مل رہا ہے لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کو ۔
اس موضوع کی جانب آتے ہیں جس مدعے پر بات کرنے کیلئے آج میرا قلم رواں ہے۔ میں یہاں آرگنائزیشن کی نجی باتوں کو زینت نہیں بنائوں گی کیونکہ مجھ میں دیگر حضرات میں فرق ہے جو کہ رہنا چاہئیے۔ البتہ کچھ حقائق اور باتیں جو میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں۔ یوتھ پارلیمینٹ سندھ کیبنٹ کے منتخب صدر اویس ربانی جن کو یوتھ پارلیمینٹ کے ممبران نے بھاری اکثریت سے منتخب کیا تھا ان کو پندرہ جنوری 2018 کو اپنے عہدے سے برطف کردیا گیا ۔ ایک لیٹر جاری کیا جس میں ان کو نکالے جانے کی وجہ یہ بتلائی کہ وہ ایک ایسی آرگنائزیشن چلارہے تھے یا اس کا حصہ تھے جو یوتھ پارلیمینٹ کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس لیٹر میں انہوں نے یوتھ پارلیمینٹ کے قوانین اور قانونی شقوں کا ذکر کیا ہے۔  اب زرا میری باتوں کو دھیان سے پڑھئیے گا اور سمجھنے کی کوشش کیجئے گا مجھے جواب نہیں چاہئیے بس اپنے دل کو جواب دیجئے گا جو ہوا کس حد تک صحیح ہے ۔
ٹرمینیشن لیٹر کی پہلی وجوہ کیلئے میرا سوال ہے اویس ربانی کون سی ایسی آرگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہیں جو یوتھ پارلیمینٹ کے خلاف کام کر رہی ہے۔یاد رہے اویس ربانی اس سے پہلے بھی یوتھ پارلیمینٹ کے وائس پریزیڈینٹ کی حیثیت سے ایک سالا دور ہورا کرچکے ہیں اس صدارت سے پہلے۔ آپ کے زہن میں جناح کے سپاہی آرہے ہوں گے ، چلیں اس پر بھی بات کر لیتے ہیں ، اس ک دو بڑے ایونٹ اسپیک فار حسین اور اسپیک فار پرافٹ بترتیب اکیس اکتوبر 2017 اور سولہ دسمبر 2017 کو انجام پائے جس کے اسپانسرز میں یوتھ پارلیمینٹ بھی شامل تھی جو کہ آن ریکارڈ ہے آپ لوگ میری بات کی تصدیق فیس بک کے زریعے بآسانی کر سکتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ اتنے سالوں میں چئیرمین صاحب کو پتہ نہیں چلا۔۔ یا اچانک راتوں رات انکشاف ہوا یا پھر کوئی الہام ہوا ہے ۔۔

اگر یوتھ پارلیمینٹ کے گذشتہ صدور کی بات کروں تو ان میں سے جو پہلے صدر تھے ان کی وابستگی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ رہی ، دوسرے صدر جن کی وابستگی بہت سی دیگر تنظیموں سے رہی اور اپنے دورِ صدارت میں یوتھ پارلیمینٹ ان کی عدم توجہی کا شکار رہا ، جناب نہ کسی میٹنگ میں شریک ہوتے تھے نا ہی کوئی خاص کام ان کی طرف سے سامنے آیا ،جس کی بارہا شکایت خود چئیرمین صاحب کرتے نظر آئے ہیں ۔
اس سب کے باوجود اویس ربانی کے ساتھ ہونے والا ظلم ، جبر کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے ۔میں یہاں کوئی ثبوت پیش نہیں کروں گی کیونکہ گذشتہ تین مہینے سے میں یوتھ پارلیمینٹ کی ڈسپلن ایکشن کمیٹی کے سامنے سارے ثبوت پیش کرتی رہی اپنی بسات سے لڑتی رہی حق کیلئے لیکن آخر میں مجھے یہ کہہ کر چپ کروادیا گیا کہ اب کوئی فیصلہ نہیں آئے گا۔ استعفٰی دینے کے بعد میرے گھر والوں کو فون کالز کی جارہی ہیں کیوں ۔۔ مجھ پر الزام لگائے گئے کہ میں اگر انصاف کیلئے بول رہی ہوں تو میں کسی کی آلئہ کار ہوں کوئی مجھے استعمال کر رہا ہے ۔مجھے فالو اپ نیوز مانگنے کیلئے نمبر بدل بدل کر کال کرنی پڑتی تھی کیونکہ ڈسپلن ایکشن کمیٹی کے ارکان میری کالزکو نظر انداز کرتے رہے ، تین مہینے ثبوت مانگتے رہے اور تنیجہ ۔۔
میں اس بات سے انجان بیٹھی رہی کہ فیصلہ تو آئےگا لیکن حق کی فتح نہیں بلکہ آمریت کا بول بالا ہوگا۔ بس ایسے میں مجھےا ور تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرتی ظلم کے خلاف آواز آُٹھانے کا یہی ایک طریقہ سمجھ آیا کہ چھوڑدیا وہ ادارہ جو اپنے الفاظ کی عکاسی نہیں کرتا ، اس میں رہنا ان کا ساتھ دینا ہے اور میں ظلم کو پروان چڑھتے نہیں دیکھ سکتی نا اس کا ساتھ دے سکتی ہوں ۔ اس لئے ان سے الگ 

ہوگئی۔

No comments:

Post a Comment