لو آج پھر کسی ماں کا لختِ
خون میں لت پت لوٹا ہے
لو آج کسی سہاگن کی چوڑیاں
ٹوٹیں گی
لو آج پھر کسی بہن کے سر سے چادر چھننی ہے
لو آج پھر کسی بیٹی کو درندہ
صفت نگاہیں ڈھونڈیں گی
مگر تمھیں کیا۔۔۔۔۔۔۔
خاموش رہو۔۔۔۔۔ کہ مرنے والا
تمھارا کوئ نہیں!
لو آج پھر کسی کے گھر میں
صفِ ماتم بچھی ہے
لو آج پھر سب خون خون ہے
پھر پوچھتے ہو یہ شہر اتنا
گرم کیوں ہے
ارے یہ حدت شہیدوں کے لہو کی
لو آج پھر فضا سوگوار ہے
مگر تمھیں کیا۔۔۔۔۔۔
خاموش رہو۔۔۔ کہ مرنے والا
تمھارا کوئ نہیں
لو آج پھر کوئ بے نتیجہ نفرت
کا نشانہ بن گیا
لو آج پھر کسی بوڑھے باپ کا
سہارا چھن گیا
لو آج پھر وہی ہوا جو کب سے
ہے چلا آرہا
لو آج پھر کوئ گھر خون سے
نہا گیا
لو آج پھر سرخ رنگ کا مطلب
بدل گیا
مگر تمھیں کیا۔۔۔۔۔۔
خآموش رہو ۔۔۔۔۔ کہ مرنے والا
تمھارا کوئ نہیں۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment