حاضرحاضر لہو ہمارا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس ملک کی فضاؤں میں خشبو
حب الوطنی مہک رہی ہو اس پر کسی کی آنکھ اٹھانے کی ہمت بھی کیونکر ہوسکتی ہے۔ جس
ملک کے نوجوان بے خوف و خطر نہ صرف سرحدوں پر کھڑے ملکی حفاظت کر رہے ہوں بلکہ جب
جب ملک و قوم کو اندرونی خطرات لاحق ہوں تو یہ جوان دوڑے دوڑے آکر سب کچھ سمبھالتے ہوں وہاں بھلا کوی
کچھ کر پاۓ گا۔
پاکستان ! جیسا
پاکیزہ میرے ملک کا نام ویسی میری افواج۔ حدود چاہے زمینی ہو، فضائ ہو یا طویل
پانیوں کی۔۔۔۔ افواجِ پاکستان اپنا سب کچھ اس ایک نام کے حوالے کر کے ہمارے لۓ،
ہمارے ملک کیلۓ اکھٹا کرتے ہیں۔
اے جوان تو نے کس طرح
قرض چکایا
کہ جو واجب بھی نہ تھا تجھ پر
تاریخ
کچھ بھی1965 ,1971یا 1999 افواجِ پاکستان کا ایک ہی نعرہ تھا اے پاکستان!
حاضر حاضر لہو ھمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریاست کبھی ناکام ہو ہی نہیں سکتی ، جس کی
بنیادوں میں شامل ہو میجر طفیل سے لیکر جان شیر خان جیسے شہیدوں کا۔ مٹ گۓ وہ جو
مٹانے چلے تھے پاکستان کو۔ وطن کے ان سپوتوں نے اپنے وطن کی مٹی کا صحیح معنوں میں
قرض ادا کیا۔
ماضی ہو یا حال، مشن راہِ نجات، راہِ راست یا ہو
ضربِ عضب وطن کے یہ پروانے اپنا سب کچھ لٹاتے آۓ ہیں اور تا دم آخر اس سے پیچھے
نہیں ہٹیں گے۔
تو پھر
ہے کسی میں ہمت چھونے کی میرے سبز حلالی پرچم کو۔۔۔۔ ہر دشمن جلا کر خاک
میں ملا دیں گے۔
پاک
فوج کی عظمت کو سلام !
No comments:
Post a Comment