چھ سال میں پہلی بار مڈل ایسٹ سمیت دنیا بھر کے مسلمان ایک ساتھ پہلا روزہ رکھا ، پہلی سحری ، پہلی افطاری کے روح پرور مناظر کو محسوس کیا ۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ اور محسوس ہوا۔۔۔ مجھے تو فضاء میں بارود کی بو آرہی ہے ۔ چاروں طرف خون نظر اآرہا ہے ۔ ایک بار پھر غزہ سے خبریں اآرہی ہیں ۔ میری روح کھینچتی ہوئی محسوس ہورہی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کوئی میرا دل تیز دھار آلے سے کاٹ رہا ہو۔ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے شاید میں ناسمجھ ہوں مجھے سمجھ نہیں آتاے مسلکوں کے مسئلے ، مجھے ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان اپنے لگتے ہیں ۔ آج جب سحری کھانے کو بیٹھی تو اس ایک خیال نے میری روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ناجانے وہ لوگ اس وقت کس حال میں ہوں گے ۔ سحری تو کیا انہوں نے رات کو بھی کچھ کھایا ہوگا۔ یا وہ کسی محفوظ مقام کی تلاش میں یہاں وہاں بھٹک رہے ہوں گے ۔
امریکی صدر کا بیان جس میں وہ معصوم فلسطینیوں کے قتل پر مبارکباد پیش کر رہے تھے ۔ قابلِ مذمت ہے بلکہ قابلِ سزا ہیں یہ لوگ ، ان سے سخت حساب لیا جانا چاہئیے مگر کون لے گا۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ تعلٰی عنہ) جیسے رہنما کی منتظر یہ مسلم امہ ناجانے کب تک یونہی گھروں میں بیٹھی رہیں گے ۔ خاموش تماشائی بنے ۔انہی کے ملک میں گھس کر انہی کے گھروں کو تباہ کر رہے ہیں ۔ امن کی پیامبر بنی یہ بڑی بڑی تنظیمیں ڈوب مریں ۔ یو این او اور امریکہ کی پشت پناہی ، مسلم ممالک کی خاموشی ظالم کے ظلم میں سب برابر کے شریک ہیں ۔
کیا کھی یہ خیال نہیں آتا کہ اگر ان کی جگہ یہ ہمارے ساتھ ہوتا تو کیا ہوتا ۔ خدانخواستہ کوئی آپ کے کے شہر پر حملہ کردے گھرؤں کو مسمار کردے ، آ پ کے اپنے آپ کے سامنے دم توڑرہے ہوں آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہ ہو اس وقت آپ کو اپنی زندگی کیسی لگے گی ۔ نعمت یا آزمائش ۔۔ زرا سچئیے احساس کیجئے ہمارے ہاں فجر کی آزان ہوتی ہے نمازی فجر پڑھ کر گھرؤں کو لوٹ جاتے ہیں مگر وہاں یہ سوچ مشکل ہے اول تو واپس آنے کی امید ندارد کیا خبر کب کہاں سے کوئی گولہ بارود مسجد پر آپڑے اور سارے نمازی شہید ہوجائیں ۔ دوسرا وہ ہر نماز میں ناجانے کتنے پیاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں ۔
رمضان ہمیں اخوت ، بھائی چارے ، مساوات کا سبق سکھاتا ہے ۔ کیا یہ رمضان مسلم ممالک کے سربراہوں کو یہ سبق نہیں سکھا سکتا کہ ہم لڑجائیں اور بچالیں اپنے لوگوں کو ۔ کیا بحیثیت مسلمان ہم میں یہ احساس بیدار نہیں ہوسکتا ۔ کیا ہم یونہی بے بسی کی مورت بنے اس خؤن کی ہولی کو دیکھتے رہیں گے ۔ کیا ہماری آپسی رنجیشیں اتنی طول پکڑ چکی ہیں کہ مذہ سے اوپر ہوگئی ہیں ۔ کیا یہ خؤاب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا دنیا بھر کہ مسلمانوں کا جو قتلِ عام ہورہا ہے وہ رک جائے ۔ وہ اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ کیا ہم اللہ کے نام پر ایک نہیں ہوسکتے ۔کیا ہم واقعی غزہ کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ۔۔ کیا آپ ان سب کو اپنا نہیں مان سکتے ۔۔ کیا دعاؤں میں بھی کوئی جگہ نہیں ۔کاش ہم احساس کر پائیں ۔
No comments:
Post a Comment