Monday, 16 April 2018

کیا کروں مجھے فکر ہوتی ہے ۔۔۔

ہاں مجھے بلوچستان کی فکر ہوتی ہے مجھے میرے خیبر پختون خواہ کی فکر ہوتی ہے ۔۔ مجھے میرے پاکستان کے ہر ایک انگ کی فکر ہوتی ہے کیونکہ مجھے آج بھی نقشے میں لہو دکھتا ہے ، چیخیں سنائی دیتی ہیں ۔کیاکروں میں نے اپنے نانا، نانی کو دیکھا ہے میرے بابا کی زبانی میں نے دادی کے درد کو سمجھا ہے ۔ میں نے اس درد کو محسوس کیا ہے اس تکلیف میں آنسو بھائے ہیں جو کبھی ان کو ملی تھی میں نے ان بوڑھی آنکھوں میں اپنے ماں باپ کو چھوڑنے کا درد دیکھا میں ان کو دو حصوں میں خود کو بانٹتے، روح کو چھلنی ہوتے دیکھا ہے میں نے اس تکلیف کو اپنا جانا ہے اس قربانی کا احساس مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے گویا بذاتِ خود میں ہی تھی وہاں شاید یہ خون کا اثر ہوتا ہے ۔ہاں شاید تبھی سب لوگ مجھے اپنے سے لگتے ہیں ۔ زبان۔۔ یا شاید درد کا رشتہ مجھے دوسروں سے جوڑ دیتا ہے ۔ 

میرا مشرقی پاکستان۔۔ ہاں میرا ۔۔ بانیانِ پاکستان کی اولاد ہوں پورے فخر سے کہہ سکتی ہوں میرا پاکستان۔۔ دو لخت کر دیا ۔۔۔۔
دو لخت ہونا کیا ہوتا یہ صرف وہ سمجھ سکتے ہیں جن کے اپنے سرحد کے اس پار ہوں اور وہ دوسری جانب ، اس تقسیم کے سالوں بعد خبر ملے کے آپ کے والد محترم گزر گئے ہیں لیکن آپ آخری دیدار نہیں کر سکتےکیونکہ سیاسی حآلات سازگار نہیں ۔۔ خیر جانے دیجئے ہمارا کیا ہے زمیں کی اولاد نہیں جیسا بھی سلوک ہو چلتا ہے ۔۔ 
لیکن بلوچستان ، خبیر اور فاٹا تو شروع سے یہیں تھے ۔ ان کی فکر نہیں ہوتی ۔۔۔ بلوچستان میں کیا چل رہا ہے کوئی ٹی وی کیوں نہیں دکھاتا ، آواز اُٹھانے والے کہاں چلے جاتے ہیں ۔ خیبر میں یہ کیسی بے چینی ہے کیا آپ کو کبھی خیال نہیں آیا کیا ایک اور بنگلہ دیش کے منتظر ہیں کیا ایک تقسیم کافی نہیں ، کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں تھی ۔۔۔ 
اتنے سالوں کی خآنہ جنگی ۔۔ ہم کس سے لڑ رہے ہیں کیوں لڑ رہے ہیں ۔۔ اس میں ہمارے اپنے بھی تو پس رہے ہیں کیون ان کے غم کی فکر نہیں کیوں ان کے درد کا احساس نہیں ۔۔ 
کراچی میں تو سیاست کے نام پر کسی بھی ماں کے لختِ جگر کو اُٹھا لے جائو مہینوں پتہ نا چلے اور پھر کوئی ماں قسمت والی ہوئی تو اس کے گھر اس کے جواں جہاں کا لاشا ہی آیا ، ورنہ برسوں کا انتظار موت کے فرمان کے ساتھ ہی ختم ہوتا ۔۔ کورٹ نے آرڈر دیا ناجائز زمین ہے توڑ دو سب اب شادی ہال میں اگلے دن کسی کی شادی تھی تو آپ کا قصور کیوں پہلے ادھر ادھر دھکےنہیں کھائے یہ یقین کرنے کیلئے کہ ان کا شادی ہال ناجائز زمین پر تھایا نہیں ۔۔ اب آپ کے پیسے ڈوبے تو ڈوبے آپ کی بیٹی کی شادی رکی تو رکی آپ برباد ہوئے تو ہوئے ہمیں کیا۔۔۔ ہاں البتہ لاہور میں ہیں تو آپ کو نوٹس جاری کیا جائے گا جس دوران آپ کے معزز کلائنٹ اپنا کچھ اور بندوبست کر لیں ۔
کیا کروں مجھے فکر ہوتی ہے لیکن جانے دیجئے پشتونوں کی طرف سے آواز اُٹھائی گئی انہوں نے اپنے شہر سے نوجوانوں کے غائب ہونے کی شکایت کی ۔۔ ایک کو ڈھونڈنے نکلو پورا گھر غائب ہوجاتا ہے۔۔ آگے فرمایا کے ہمیں احساس نہیں ہوگا ۔۔ ارے نہیں کیسے نہیں ہوگا ایک کراچی والے ہی اس درد کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہم ہی تو اس درد کو برسوں سے جھیلتے آئے ہیں کیا کریں کوئی کچھ کہے گا تو وہ بھی غائب ہوجائے گا۔
ایک بات اور بھی کہی تھی کہ جگہ جگہ چوکیاں ہیں شناختی کارڈ مانتے ہیں وہ آپ لوگؤں کے میں ہر کسی کے پاس ہیں نہیں ۔۔ المیہ دیکھئے آپ کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے ہم شناختی کارڈ رکھتے ہیں پھر بھی ہم سے پوچھتے ہیں کون ہو تم ۔۔ 
یہ چوکیاں بنانے کی رویات بھی تو ویسے آپ لوگوں کی ہی ہے نا۔۔ جیسا مجھے یاد پڑتا ہے پولیس ، قانون کا دور دور تک کوئی اتا پتہ نہیں مانو کوئی غنڈہ راج ۔۔خیر جانے دیجئے کسی کو برا لگ جائے گا ۔ آپ ہمارے شہر میں آئیے کچھ لوگوں کا غنڈہ راج ہماری پہاڑیوں پر بھی نظر آئے گا جہاں کوئی ان کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتا البتہ ہم ایسے لوگ ہیں ان کو ہمارے بیچ آنے کی اجازت بھی اور کاروبار بھی کرنے دیتےہیں۔۔۔ کیا کریں ہمیں سب کی فکر ہوتی ہے ۔۔
لیکن یقین جانئے مجھے بلوچستان کی دل سے فکر ہوتی ہے اتنی دور سے خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کےساتھ سڑک پر بیٹھی کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے شوہر ، بیٹوں کی گمشدگی کا احتجاج کرنے کو  مگر ترس تو نا آیا البتہ ان لوگوں نے آنا چھوڑ دیا ۔۔ کیوں ۔۔
کراچی تو لاوارث ہے اور کراچی والے زندہ لاشیں ۔۔ لیکن یقین جانئے ان لاشوں میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہے ہم دل رکھتے ہیں ہمیں فکر ہوتی ہے ، کیوں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کی تکلیف کو اپنا جانا پم نے ان کی قربانیوں کو سمجھا ہے ہم جانتے ہیں پاکستان کتنا انمول ہے ، جو مشرقی پاکستان کے ساتھ ہوا وہ باقی کسی انگ کےساتھ نہیں ہونا چاہئیے ۔ اگر آُ بھی واقعی سچی محبت کرتے ہیں تو اپنوں کے روپ میں چھپی کالی بیڑوں کا سددباب کریں اور میرے پاکستان کو ہاں ہمارے پاکستان کو دوبارہ کسی گہری چوٹ لگنے سے بچالیں کہ پرانے گھائو آج بھی رستے ہیں نئے زخموں کی تاب نہ لاپائیں گے ۔  


No comments:

Post a Comment