کل رات پیش آنےوالا المناک واقعہ ایسا ہے کہ میرے الفاظ مانو کہیں کھو گئے ہیں۔ جذبات کا ایک لامتناہی سمندر ہے زبان دانتوں کے پیچھے مقید محسوس ہورہی ہے۔
انا للہ ونا الیہ رجعون ۔۔
اللہ مرحوم علی رضا عابدی بھائی کے درجات بلند فرمائیں۔انکے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین
کراچی کا ایک اور بیٹا منوں مٹی تلے جا سویا ہے۔خاموشی ہنوز قائم ہے۔ کراچی غدّاروں کا شہر، اس کےبیٹے غدّار اور غدّاروں کے قتل پہ کوئی آہ و فغاں ہوتی ہے کیا؟ان کے تو نصیب میں بے موت مرنا ہوتا ہے۔ آپ انصاف کا سوچ رہے ہیں تو نا سوچیں ہمارے پاس صرف تحریک ہے انصاف کے نام پہ باقی چیف جسٹس صاحب ڈیم بنانے میں مصروف ہیں اور وزیرِ اعظم مرغیاں پالنے کی ٹپس دیتے پائے جاتے ہیں۔سوچنے دیں اور کوئی زریعہ بچتا ہے؟
ارے ہاں پولیس۔۔ لیکن ان کے پاس تو اختیار ہی نہیں سندھ میں تو امن و امان قائم رکھنے کا بیڑا زمین کے اصلی سپوتوں نے اٹھا رکھا ہے۔ کہتے ہیں شہر میں امن قائم کردیا ہے۔ پھر یوں ہوتا ہے گھر میں داخل ہوتے شخص پر گولیوں کو بوچھاڑ ہوتی ہے کچھ پل پہلے ہنستا مسکراتا چہرہ چند سانیوں میں زندگی کے نور سے عاری زمین دوس ہوجاتا ہے۔
کراچی کا ہونہار بیٹا دوغلی اور زہریلی سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
چند یوم قبل کی بات ہے اس بھاگتےدوڑتے شہر کا ایک حصہ کرفیو کے گرہن سے گہنا دیا گیا،وجہ ۔۔ خوف۔۔ کہیں اس شہر کےوارث پھر سےسر نہ اٹھا سکیں اور نفرت کا یہ کاروبار طاقت کے بل پہ ہونہی چلتا رہے۔
اس شہر کے ساتھ ناانصافی نئی نہیں ہے لوگ بے حس ہوچکے ہیں۔ انہیں درد سہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ خوشی کا مطلب یاد نہیں ۔ اس شہر کے بیٹوں کے ساتھ تو یہ ناجانے کب سے ہورہا ہے اربابِ اختیار کے پالتو زبردستی لے جاتے ہیں کبھی اغواء کرلئے جاتے ہیں۔
پھر نا ان مجرموں پر کوئی کیس بنتا ہے نا عدالت کی زحمت اٹھائی جاتی ہے۔بڑی خوش قسمت مائیں ہوتی ہیں جن کو اپنے لعل کا گلا سڑا جسد آخری دیدار کیلئے نصیب ہوجاتا ہے ورنہ قسمت کی ماری مائیں وہ بھی ہیں جو انتظار کرتے کرتے خود ابدی نیند سوجاتی ہیں مگر ان کے لخت جگر کے لوٹنے کی کوئی امید بر نہیں آتی۔
کہتے ہیں قانون کی بالادستی ہے ایک مردہ باد والا غدّار دوسرا پاکستان توڑ دو والا معزز ٹھرا ۔۔
خاموش۔۔قانون سورہا ہے اٹھ گیا تو ہر جرم کا مجرم کراچی کا غدّار ہی ٹھرے گا۔
Wednesday, 26 December 2018
لفظ لفظ ہے بھرا بھرا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment